Drizzling Of Love

Drizzling Of Love

 





 زندگی میں انسان بہت سے دوسرے انسانوں سے محبت کرتا ہے، اولاد سے محبت کرتا ہے، والدین سے محبت کرتا ہے اسی طرح مرد عورت سے اور عورت مرد سے محبت کرتی ہے مگر اشتیاق صاحب کا معاملہ ذرا مختلف تھا انہیں اپنے مکان سے بے حد محبت تھی۔ دن رات وہ اس کی دیکھ بھال میں لگے رہتے تھے۔ جس طرح کسی نوجوان کو اپنی نئی موٹر سائیکل  یا کسی بچے کو اپنی نئی نئی سائیکل سے محبت ہوتی ہے اور وہ اسے بڑے پیار سے اور چاؤ سے رکھتا ہے، ذرا سا کہیں دھول مٹی کا کوئی دھبہ نظر آ جاۓ تو فوراً اسے صاف کرنے لگتا ہے اور اسے بڑی احتیاط سے سنبھال کر رکھتا ہے بالکل یہی حال اشتیاق صاحب کا بھی تھا۔ وہ بھی اپنے مکان میں جہاں بھی کوئی معمولی سی خرابی دکھائی دیتی تھی اسے فوراً درست کرنے میں لگ جاتے تھے۔ دیواروں پر پیار سے اس طرح ہاتھ پھیرتے تھے جیسے کوئی باپ اپنے بچے کے سر پر لاڈ سے ہاتھ پھیرتا ہے۔ دروازوں اور کھڑکیوں کو بڑی نرمی سے اس طرح پکڑتے تھے جیسے انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہو۔ جس وقت بھی وہ گھر پر ہوتے بس اسی کی دیکھ بھال میں لگے رہتے تھے یوں جیسے کوئی تیماردار اپنے کسی عزیز مریض کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ 


اس وقت بھی جب وہ گھر میں داخل ہوۓ تو انہوں نے سودا سلف کے شاپر میز پر رکھے اور بلند آواز سے اپنی بیوی کو پکار کر اپنے آنے کی اطلاع دی اور فوراً دراز سے پیچکس اور پلاس وغیرہ نکال کر اس لکڑی کے دروازے کو ٹھیک کرنے میں جت گۓ جس کو کھولتے اور بند کرتے وقت اس کی چولوں میں سے چر چر کی آواز آتی تھی۔ دروازے کو درست کرکے انہوں نے اسے اچھی طرح ہلا جلا کر دیکھا اور اپنی تسلی کر چکنے کے بعد وہ کھڑکی کی جانب بڑھے جو کھلتے وقت ذرا سا اٹکتی تھی۔ ان کی بیوی آئی اور اشتیاق صاحب کو دیکھ کر کہنے لگی 'آپ پھر سے اس کو لے کر بیٹھ گۓ، اس گھر کو اور تو کچھ ہو نہ ہو آپ نے اسے رگڑ رگڑ کے ضرور گھسا دینا ہے۔' اشتیاق صاحب نے اپنی بیوی کی بات پر زیادہ دھیان نہ دیا اور اپنے کام میں لگے رہے۔ ان کی بیوی سودا سلف کے شاپر اٹھا کر چلی گئی جبکہ انہوں نے اچھی طرح کھڑکی کو درست کیا اور جب انہیں مکمل طور پر اطمینان حاصل ہو گیا کہ کھڑکی اب بالکل ٹھیک ہے تو واپس آکر انہوں نے پیچکس وغیرہ کو دراز میں رکھا اور اکر صوفے پر بیٹھ کر اردگرد کسی اور چیز کا جائزہ لینے لگے۔ 


اس گھر کا سب سے خوبصورت اور سب سے نمایاں حصہ یہ حال تھا جو لونگ روم کا کام دیتا تھا جس میں اس وقت اشتیاق صاحب بیٹھے تھے۔ یوں تو یہ پورے کا پورا گھر انہوں نے خود اپنے ذوق کے مطابق ڈیزائن کروایا تھا مگر اس لونگ روم پر انہوں نے خاص طور پر توجہ دی تھی۔ اپنی عمر کا ایک طویل حصہ انہوں نے کراۓ کے ایک چھوٹے سے بدصورت اور حستہ حال گھر میں گزارا تھا اس لیے بچپن سے انہیں اپنے ایک خوبصورت گھر کی تمنا تھی مگر اب جب ان کی عمر ڈھل گئی تھی تو انہیں اپنا یہ گھر نصیب ہوا تھا۔ یہ گھر زیادہ بڑا تو نہیں تھا مگر اس کو بنانے میں ان کی تمام جمع پونجی صرف ہو گئ تھی۔ اس مکان کی خاص بات یہ تھی کہ اس کا آرکیٹیکچر جدید طرز کی چکا چوند والی کوٹھیوں کی بجاۓ پرانے طرز کے مکانوں سے ملتا جلتا تھا۔ سب سے پہلے صحن، پھر کھلا ڈھلا برآمدہ جس کے درمیان میں ایک دو ستون تھے جن پر بیل بوٹوں سے بڑی دیدہ زیب نقاشی کی گئی تھی اور اس کے بعد بڑا سا حال جس میں ٹی وی وغیرہ رکھا تھا اور اس کے گرد چند کمرے اور باورچی خانہ تھا۔ کھڑکیاں اور روشن دان بڑے بڑے تھے۔ فرنیچر نہایت عمدہ اور سادہ تھا جس میں جدید طرز کے صوفوں کی بجاۓ پرانی طرز کی کرسیاں، پیڑھے اور موڑھے تھے جو کسی زمانے میں ہمارے پنجاب کے دیہاتوں اور شہروں میں گھروں کی زینت تھے۔ یہ پورے کا پورے گھر اور فرنیچر پرانے مشرقی طرز کے گھروں کو سامنے رکھ کر بنایا گیا تھا اور جدید طرز کی کوٹھیوں سے جتنا ہو سکے اجتناب کیا گیا تھا۔ اس طرح کا گھر بنانا ہمیشہ سے اشتیاق صاحب کا سب سے بڑا خواب رہا تھا جو اب کہیں جا کر پورا ہوا تھا۔ تمام گھر کھلا ڈھلا، ہوادار اور روشن تھا۔ حال کے داخلے میں لکڑی کا ایک دیوہیکل قسم کا دروازہ تھا جو درمیان سے کھلتا تھا اور کھل کر دو حصوں میں بٹ جاتا تھا۔ یہ دروازہ تمام دن کھلا رہتا تھا جس سے روشنی شام تک حال کے اندر آدھے حصے تک پڑتی تھی۔ اس کے علاوہ برآمدے میں بڑی بڑی چکیں لگائی گئ تھیں جو خوبصورتی کے علاوہ گرمیوں میں دھوپ سے بچاؤ کے کام آتی تھیں۔ وہاں بھی بڑے بڑے پیڑھے اور چند کرسیاں پڑی تھیں جن پر چھوٹے چھوٹے نہایت خوبصورت پھول بڑی نفاست سے کاڑھے گۓ تھے۔ کرسیوں اور پیڑھوں کو رنگنے اور ان پر نقش و نگاری کا کام بھی اشتیاق صاحب نے اپنے ذوق کے مطابق خود کروایا تھا۔ صحن میں مرکزی دروازے کے پاس سیڑھیاں تھیں جو اوپر چھت پر جاتی تھیں۔ چھت بھی صاف ستھرا اور کھلا ڈھلا تھا جہاں چند آہنی کرسیاں اور ایک میز پڑا تھا۔ سادگی، نفاست اور قدیم طرز تعمیر کے امتزاج نے اس گھر کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیۓ تھے اور اسے مزید پرکشش بنا دیا تھا۔   


اشتیاق صاحب ابھی وہیں بیٹھے بیٹھے گھر کی کسی اور چیز میں کوئی خرابی تلاش کر رہے تھے کہ باہر سے ان کی بڑی بہن اور بیٹی اندر داخل ہوئیں۔ انہوں نے ہاتھوں میں ڈھیر سارے شاپنگ بیگ پکڑ رکھے تھے جو انہوں نے آتے ہی میز پر پھینکے اور خود آکر صوفوں پر گر گئیں۔ ان کی بیٹی کہنے لگی 'ابو قسم سے پھوپھو کے ساتھ خریداری کرنا بڑا مشکل ہے ایک ایک دکان میں اتنی اتنی دیر لگاتی ہیں میری تو حالت خراب ہو گئ تھی۔' 


'تو کیا کروں دیکھے بغیر ہی کوئی چیز لے لوں؟ دیکھ بھال کر ہی کچھ خریدنا پڑتا ہے ورنہ دکانداروں کا کیا ہے وہ تو کوئی بھی گھٹیا چیز تھما دیں۔' 


ان کی باتیں سن کر اشتیاق صاحب کی بیوی بھی آگئی اور کہا 'سب کچھ لے آئیں کچھ رہ تو نہیں گیا؟'


نہیں ابھی کل پھر جانا پڑے گا۔' ان کی بیٹی نے جواب دیا۔


یہ سن کر اشتیاق صاحب نے فوراً کہا 'دو دن رہ گۓ ہیں شادی کو اور تم لوگوں کی ابھی تک خریداری ختم نہیں ہوئی؟'


ان کی بیوی تنک کر بولی 'جیسے آپ کو تو بڑی فکر ہے شادی کی۔ کیا بتاؤں آپاں ان کو اپنی بیٹی کی شادی کی کم اور اس مکان کی فکر زیادہ ہے۔ ہر وقت تو اسی میں لگے رہتے ہیں۔'


آۓ ہاۓ کبھی تو اس کی جان چھوڑ بھی دیا کرو اشتیاق۔' ان کی بہن نے کہا۔ 'تم تو اس گھر کے پیچھے پاگل ہی ہو گۓ ہو اچھا بھلا تو ہے پھر کیا ٹھیک کرنے میں لگے رہتے ہو۔'


میں تو یہ دیکھ رہا تھا آپاں کوئی چیز خراب ہے تو ٹھیک کر دوں کل سے گھر میں مہمان آنے شروع ہو جائیں گے اچھا تو نہیں لگتا شادی والے گھر میں کوئی چیز خراب ہو۔'


ابو کو یہ بہانہ مل گیا ہے ورنہ اس کے علاوہ بھی یہ ہر وقت یہی کرتے رہتے ہیں۔' ان کی بیٹی نے کہا۔   


شادی کے دن بھی اشتیاق صاحب کو بس یہی فکر دامن گیر تھی کہ گھر میں آۓ مہمان بالخصوص بچے کسی چیز کو خراب نہ کر دیں۔ اس لیۓ وہ ہر وقت ان پر نظر رکھتے اور اگر کوئی بچہ ذرا سی بھی شرارت کرنے لگتا تو اسے فوراً ڈانٹ کر بھگا دیتے۔ جب شادی بخیر و عافیت گزر گئی اور انہوں نے اپنی بیٹی کو رخصت کر دیا تو وہ گھر کے ایک ایک کمرے میں گۓ اور ہر کونے کو بڑی باریک بینی سے دیکھا کہ شادی کے ہنگام میں اگر کوئی چیز بگڑ گئی ہو تو اسے ٹھیک کر دیں۔ تمام گھر ٹھونک بجا کر دیکھنے کے بعد انہیں کئ چیزوں میں نقص نظر آۓ لہذا وہ فوراً بازار گۓ اور کیلیں اور پیچ اور اس طرح کی جس جس چیز کی ضرورت تھی خرید لاۓ۔ صحن میں دروازے کے پاس اور اوپر سیڑھیوں پر جو چند گملے رکھے تھے جو شاید بچوں نے کھیلتے ہوۓ یا کسی اور سے گزرتے ہوۓ ٹوٹ گۓ تھے وہ بھی ساتھ لے لاۓ اور دوبارہ انہیں اسی جگہ پر سجا دیا جس جگہ وہ پہلے موجود تھے۔ البتہ کرسی کی ایک ٹانگ اور موڑھے کا کپڑا ایک جگہ سے پھٹ گیا تھا جسے وہ دکان پر مرمت کے لیۓ دے آۓ تھے۔ برآمدے کی دیوار سے ایک جگہ پلستر اکھڑ گیا تھا جسے وہ فوراً ٹھیک کروانا چاہتے تھے مگر مصروفیت کی وجہ سے یہ کام انہوں نے فراغت یا چھٹی کے دن تک کے لیے موخر کر دیا تھا۔ 


اگلے کئ دن تو وہ مصروف رہے مگر جب انہیں کچھ فراغت حاصل ہوئی تو وہ بازار گۓ اور کرسی اور موڑھا جو انہوں نے مرمت کے لیے دیۓ تھے لے کر گھر آگۓ۔ شام کو اچانک ان کی بیوی کی طبعیت خراب ہو گئی تو وہ انہیں فوراً ہسپتال لے گۓ۔ ڈاکٹر نے معائنے کے بعد جو  بتایا اسے سن کر اشتیاق صاحب کو کافی دھچکا لگا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ ان کی بیوی کو کینسر کی طرح کی کوئی بیماری ہے جس کا علاج خاصا مشکل اور طویل ہے  اور یہ کہ جلد از جلد اس کا علاج شروع کرنا پڑا گا ورنہ مریض کو کافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ڈاکٹر سے علاج کے بارے میں چند ضروری ہدایات اور معلومات لینے کے بعد وہ اپنی بیوی کو لے کر گھر آگۓ۔ انہوں نے اپنی بیوی کو کمرے میں لٹایا اور خود باہر برآمدے میں آگۓ۔ اپنی بیوی کی حالت کے علاوہ انہیں یہ پریشانی بھی لاحق تھی کہ ڈاکٹر نے جو علاج بتایا تھا اس کے لیے ڈھیر سارا روپیہ درکار تھا اور یہ گھر بنوانے اور اپنی بیٹی کی شادی کرنے کے بعد ان کے پاس اب پھوٹی کوڑی نہیں بچی تھی۔ ان کے کام سے جو انہیں آمدن حاصل ہوتی تھی اس سے محض گھر کا خرچ وغیرہ چلتا تھا لیکن اتنی ساری اکٹھی رقم کا حصول ان کے لیے ناممکن تھا۔ اگلے کئی دنوں تک انہوں نے ادھر ادھر سے روپیہ اکھٹا کرنے کی کوشش کی مگر جو رقم وہ جمع کر پاۓ وہ علاج کے لیے بہت ہی ناکافی تھی۔ ڈاکٹر نے انہیں ایک مرتبہ پھر یہ کہا کہ علاج فوراً نہ کیا گیا اور اگر پوری طرح احتیاط نہ کی گئی تو مریض کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے چند دن تک سرجری بھی کرنی پڑے۔


 اشتیاق صاحب نے بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر روپیہ نہ ملنا تھا نہ ملا۔ بالآخر ان کے پاس روپیہ حاصل کرنے کا ایک ہی ذریعہ بچا تھا اس لیے انہوں نے فوراً فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے گھر کے کاغذات نکالے اور باہر نکلنے والے تھے جب ان کی بیوی نے انہیں روک لیا اور کہا۔ 'اس گھر کو بیچنے جا رہے ہیں جو آپ نے بڑی محنت سے بنایا ہے اور جو آپ کو بہت عزیز ہے۔'


'ہاں عزیز تو ہے۔' اشتیاق صاحب نے کہا۔  'مگر اس کے علاوہ اور کوئی چارا بھی تو نہیں۔ کوئی بھی چیز جس سے آپ کو چاہے کتنی ہی محبت کیوں نہ ہو انسان کا نعم البدل تو نہیں ہو سکتی۔' 



'اگر اور کوئی چارا نہیں تو آپ رہنے دیں ایسے ہی جیسے چلتا ہے چلنے دیں جو ہو گا دیکھا جاۓ گا۔'


'نہیں ایسا بالکل نہیں ہو سکتا۔'


'مگر یہ بھی تو سوچیے ہم رہیں گے کہاں؟' 


'کہیں بھی رہ لیں گے۔ یہ گھر تو ابھی بنا ہے اس سے پہلے بھی تمام عمر ہم کہیں نہ کہیں رہتے ہی رہیں ہیں۔'


ان کی بیوی نے انہیں گھر بیچنے سے بہت روکا مگر وہ جانتے تھے کہ مزید دیر نہیں کی جا سکتی۔ اگلے چند ہی دنوں میں مکان بک گیا اور انہوں نے اس گھر کو چھوڑنے اور دوسری جگہ منتقل ہونے کی تیاری شروع کر دی۔ آخری شب جب آنے والی صبح انہیں گھر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیرباد کہنا تھا وہ تمام رات انہوں نے بیداری میں کاٹی۔ گھر کے ایک ایک کونے کو ہاتھ سے چھو کر یوں دیکھا جیسے اس کا لمس محسوس کر رہے ہوں۔ چھت پر گۓ تو گھنٹوں وہاں کھڑے رہے اور پھر نیچے آکر برآمدے اور صحن میں ٹہلنا شروع کر دیا۔ صبح جب وہ اپنی بیوی کو لے کر گھر سے نکل رہے تھے تو آخری مرتبہ انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ ایسے لگا جیسے وہ اپنی آنکھ کے کیمرے میں گھر کے آخری لمحات کی تصویر لے کر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لینا چاہتے ہوں۔ 


 





  

Post a Comment

Thank you for your comment

Previous Post Next Post