وہ آدمی جو اس وقت فٹ پاتھ کے پاس سڑک پر اوندھے منہ پڑا تھا اپنی شکل و صورت سے اس قدر معصوم و پاکیزہ دکھائی دے رہا تھا لگتا تھا بارش نے اس کی روح کے داغ تک دھو ڈالے ہیں اور وہ تمام گناہ جو اس نے اپنی زندگی میں کیے تھے وہ بارش کے پانی میں بہہ کر تحلیل ہو گۓ ہیں۔ وہ سڑک پر یوں پڑا تھا جیسے اپنے گھر کے نرم و گداز بستر پر الٹا لیٹ کر گہری نیند سو رہا ہو۔ اس کے گرد جو چند آدمی کھڑے تھے اس کی نبض ٹٹول کر اور سانسوں کو جانچ کر تصدیق کر چکے تھے کہ یہ آدمی مر چکا ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ اس کی لاش یہاں کیسے پہنچی یا اس کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا۔ کسی کا کہنا تھا شاید کوئی گاڑی والا ٹکر مار کر فرار ہو گیا ہے اور کسی کے مطابق اسے دل کا دورہ پڑا تھا۔ یہ سب قیاس آرائیاں تھیں کیونکہ وہ تمام لوگ جو اس وقت موجود تھے ان میں سے کسی نے بھی اسے یہاں گرتے ہوۓ نہیں دیکھا تھا۔ اردگرد جو چند دکانیں اور عمارتیں تھیں ان میں سے بھی کوئی اس بارے میں نہیں جانتا تھا۔ اس سڑک پر بے شمار واقعات و حادثات ہوتے رہتے تھے کبھی دو موٹر سائیکل سواروں کا آپس میں تصادم ہوتا کبھی کوئی گاڑی کسی سے ٹکرا جاتی مگر ان تمام حادثات کا اردگرد کے لوگوں اور راہ گیروں کو ضرور پتہ چلتا لیکن یہ واقعہ ایسا تھا کہ کسی کو اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ بارش مسلسل ہو رہی تھی اور وہ ابھی تک بالکل اسی طرح سڑک کے کنارے پڑا تھا۔ کسی نے بھی اس کی جیبوں کی چھان بین کرنے کی کوشش نہیں کی تھی جس سے اس آدمی کے بارے میں کچھ پتہ چلتا کیونکہ لوگوں کا خیال تھا اس کو کسی نے پہلے قتل کیا ہے اور پھر بعد میں اس کی لاش کو یہاں لاکر پھینک دیا ہے کیونکہ اگر اسے یہاں مارا جاتا یا اس کے ساتھ یہاں کوئی حادثہ پیش آیا ہوتا تو اردگرد کے لوگوں کو اس کی ضرور بھنک پڑتی اور انہیں فوراً پتہ چل جاتا مگر لگتا تھا کسی نے سوچ سمجھ کر اسے یہاں پھینکا ہے کیونکہ اس طویل سڑک کے اس حصے پر علاقہ قدرے سنسان تھا اردگرد بس چند دکانیں تھیں اور مکانات تو نہ ہونے کے برابر تھے۔ مسلسل بارش کی وجہ سے ٹریفک اور رش بھی بہت کم تھا۔ اس لیے لوگ اس کی لاش کو زیادہ چھیڑنے سے کترا رہے تھے کیونکہ وہ خواہ مخواہ کسی چکر میں پھنسنا نہیں چاہتے تھے۔ جب کچھ دیر گزر گئی اور اس آدمی کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہ چل سکا تو کسی نے پولیس کو اطلاع دینے کا مشورہ دیا لہٰذا فوراً پولیس کو اطلاع کر دی گئی مگر پچھلے دو تین دنوں سے لگاتار بارشوں کی وجہ سے شہر بھر کی سڑکوں پر ڈھیر سارا پانی جمع تھا جس سے راستے تقریباً بند ہو چکے تھے اور یہ علاقہ شہر کے مرکز سے کافی ہٹ کر شہر سے باہر واقع تھا جس کو صرف ایک پل کے ذریعے شہر سے جوڑا گیا تھا جو ایک برساتی نالے کے اوپر سے گزرتا تھا اور جو ان دنوں تیز بارشوں اور سیلاب کے سبب ٹوٹ کر بہہ گیا تھا جس سے اس علاقے کا رابطہ شہر سے منقطع ہو چکا تھا۔ اس لیے گاڑیوں کی آمدورفت کا سلسلہ مکمل طور پر بند تھا۔ جب مزید کچھ وقت بیت گیا اور پولیس کے آنے کے آثار دکھائی نہ دیۓ تو وہاں پر موجود لوگ آہستہ آہستہ کرکے چھٹنے لگے۔ جن کی دکانیں پاس ہی تھیں وہ اپنی اپنی دکانوں میں جا گھسے اور جو راہگیر تھے وہ اپنے اپنے راستے ہو لیے۔ صرف چند آدمی اور کچھ نوجوان جو فارغ تھے محض وقت گزاری کی خاطر وہاں ٹھہرے رہے۔ آدمی خوش گپیوں میں مصروف ہو گۓ اور نوجوان اس آدمی کی لاش کی ویڈیو اور تصاویر بنانے میں مشغول ہو گۓ۔ کسی وقت کوئی گاڑی والا یا موٹر سائیکل سوار گزرتے ہوۓ ٹھہر جاتا اور مرے ہوۓ آدمی کے بارے میں چند ایک باتیں دریافت کر کے آگے بڑھ جاتا۔ کچھ تھے جو نہ جانے کس ضروری کام کے لیے اتنی بارش میں گھر سے نکلے تھے مگر اب یہیں ٹھہر گۓ تھے۔ جب کچھ وقت اور بیت گیا تو ایک آدمی نے کہا کہ پولیس سے دوبارہ رابطہ کرنا چاہیے اور ان سے دریافت کرنا چاہیے کہ وہ ابھی تک یہاں پہنچی کیوں نہیں۔ جواب میں پولیس نے وہی عذر پیش کیا کہ پل ٹوٹنے سے راستہ بالکل بند ہو گیا ہے اس لیے وہاں پہنچنا خاصا دشوار ہے لیکن انہوں نے تسلی دی کہ وہ جلدازجلد کوئی بندوبست کرکے وہاں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پولیس سے بات کرنے کے بعد آدمی جو بارش سے بچنے کے لیے کونوں کھدروں میں مختلف ٹولیوں میں کسی نہ کسی سائبان کے نیچے کھڑے تھے اب واپس انہی جگہوں پر پناہ لے چکے تھے۔ جبکہ نوجوان جو پہلے تصاویر اور ویڈیوز وغیرہ بنانے میں مصروف تھے اب ایک طرف ہٹ کر ذرا فاصلے پر بڑے سے درخت کے نیچے جا کھڑے ہوۓ تھے اور ہنسی ٹھٹھوں میں مگن ہو گۓ تھے۔ اس آدمی کی لاش کو ابھی تک کسی نے بھی سیدھا نہیں کیا تھا وہ جیسے پہلے اوندھی پڑی تھی بالکل اسی طرح ابھی بھی ویسے ہی پڑے پڑے بارش میں بھیگ رہی تھی۔ جو لوگ یہاں سے ہو کر گۓ تھے ان کی بدولت جب یہ بات دوسرے لوگوں تک جو یہاں نزدیک ہی رہائش پذیر تھے یا یہاں کام دھندہ کرتے تھے ان تک پہنچی تو ان میں سے بہت سے لوگ خصوصاً نوجوان لڑکے اس پراسرار مردہ آدمی کو دیکھنے چلے آۓ۔ کچھ ہی دیر میں یہاں لوگوں کا اچھا خاصا تانتا بندھ گیا۔ ایک طرف چند آدمی کھڑے مردہ آدمی کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے تو دوسری طرف دوسری ٹولی پولیس پر اظہارِ خیال کر رہی تھی۔ چند نوجوان جو ابھی ابھی پہنچے تھے ویڈیوز وغیرہ بنانے میں جت گۓ تھے۔ لوگ آتے تھے اور تھوڑی دیر ٹھہر کر لوٹ جاتے تھے، پھر اور لوگ آتے تھے پہلے سے موجود لوگوں سے تمام قصے کے بارے میں چند باتیں دریافت کرتے تھے اور وہ بھی لوٹ جاتے تھے۔ کئی ایسے تھے جو شروع وقت سے وہیں موجود تھے۔ بہت سی ادھیڑ عمر اور عمر رسیدہ عورتیں گزرتے ہوۓ گاڑی، موٹرسائیکل یا رکشے وغیرہ کو کچھ دیر کے لیے ٹھہرا لیتی تھیں اور مردہ آدمی کو دیکھ کر کفِ افسوس ملتے ہوۓ آگے بڑھ جاتیں تھیں۔ لوگوں کی اتنی گہما گہمی دیکھ کر کچھ پھیری والے اور ٹھیلے والے بھی آدھمکے اور یہاں آکر اپنی اپنی دکان لگا لی۔ شام تک یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا۔ بارش کسی کسی وقت تھم جاتی مگر کچھ دیر بعد دوبارہ برسنے لگتی تھی۔ شام کے بعد جب اندھیرا پھیلنے لگا تو لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹنے لگے یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جو بہت پہلے سے وہاں موجود تھے وہ بھی اپنے گھروں کو چل دیۓ اور وہاں سواۓ اس مردہ آدمی کے اور کوئی بھی موجود نہ رہا۔ بارش کی وجہ سے ٹریفک کا سلسلہ بھی تقریباً رک گیا تھا اس لیے وہ ویران علاقہ تاریکی اور بارش کے سبب اور بھی زیادہ تاریک، اجاڑ اور سنسان دکھائی دینے لگا تھا۔ تھوڑی دیر کے لیے بارش رکی تو کہیں سے دو تین آوارہ کتے نکل کر آۓ اور چلتے چلتے اس مردہ آدمی کے پاس آگۓ جو ابھی بھی بالکل اسی طرح سڑک پر پڑا تھا۔ ایک کتا آگے بڑھا اور لاش کو سونگھنے لگا پھر اس نے اپنی زبان اس کے منہ کے پاس لے جا کر اسے چاٹنا شروع کر دیا۔ دوسرے کتوں نے بھی اس کی پیروی کی اور لاش کو اپنے جبڑوں اور زبان سے بھنبھوڑنے اور چاٹنے لگے۔ بارش دوبارہ شروع ہوگئ تو وہ لاش کو چھوڑ کر بھاگ گۓ۔

Post a Comment
Thank you for your comment