موسموں اور ادب کا بڑا پرانا اور بڑا گہرا تعلق ہے، تقریباً ہر دوسرے شعر اور نثر پارے میں آپ کو موسموں کا ذکر ضرور ملتا ہے جس میں ہر اچھا شاعر و ادیب اپنے پروازِ تخیل اور اندازِ بیان سے اسے اتنا پر تاثیر بنا دیتا ہے کہ پڑھنے والا اس سے لطف اندوز ہوۓ بغیر نہیں رہ سکتا۔ مگر یہ زبان و بیان کی فنکاریاں اور تخیل کی پروازیاں شاعری اور فکشن میں تو جچتی ہیں اسی لیے موسموں کو پر لطف انداز میں انہی صنفوں میں بیان کیا جا سکتا ہے جبکہ انہیں کسی غیر افسانوی مضمون میں بیان کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ محمکہ موسمیات میں کام کرتے ہیں اور لوگوں کو موسم کی صورتحال کی جانکاری یا آگاہی کے لیے کوئی تحریر لکھ رہے ہیں۔
موسموں میں شاعروں کا جو سب سے پسندیدہ اور چہیتا موسم ہے وہ موسم بہار ہے۔ اگر آپ شعر و ادب سے تھوڑا سا بھی شغف رکھتے ہیں تو یقیناً آپ جانتے ہوں گے کہ جتنا اس موسم کو شاعروں نے سر پر چڑھا رکھا اور کسی موسم کو نہیں رکھا۔ سینکڑوں، ہزاروں شعر ایسے بتاۓ جا سکتے ہیں اور کئی ایسے فن پارے پیش کیۓ جا سکتے ہیں جن میں اس موسم کو کسی نہ کسی صورت میں ضرور بیان کیا گیا ہے۔ چاہے آپ رومانوی شاعری پڑھیں یا انقلابی اس موسم کا ذکر لازماً آۓ گا۔ کسی نے اس موسم کو یونہی رومانٹسائز کیا ہے اور کسی نے اسے اپنے انقلابی پیغام کے اظہار کے لیے محض استعارۃً بیان کیا ہے۔ معلوم نہیں انہیں اس موسم سے کیا انسیت ہے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ یہ موسم واقعتاً بہت دلکش، حسین اور لاجواب ہے۔ اس موسم کا حسن، دلفریبی اور رومان باکمال ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ کسی ایسے علاقے میں رہائش پذیر ہیں جہاں صرف بڑی بڑی عمارتیں ہیں اور درخت، پھول، پودے و سبزہ وغیرہ نہیں تو آپ کو اس موسم کا احساس تک نہیں ہو گا اور یہ چپ چاپ گزر جاۓ گا۔ اس لیے کہ اس موسم کا سارا حسن و خوبی اس لیے ہے کہ اس موسم میں کلیاں کھلتی ہیں، شگوفے پھوٹتے ہیں اور رنگ برنگے پھول کھلتے ہیں جن پر تتلیاں آ کر بسیرا کرتی ہیں، کئی رنگوں کے پرندے بھانت بھانت کی بولیاں بولتے اور نغمے گنگناتے ہیں۔ اردگرد سبزہ ہوتا ہے اور پھولوں کی خوشبو ہے جو ہر سو پھیلی رہتی ہے۔ مجھے ابھی بھی اپنے بچپن کے وہ دن یاد ہیں جب ابھی کم سے کم میرے شہر میں بڑی بڑی عمارتیں، جدید طرز کے جوتوں کپڑوں وغیرہ کی رنگین دکانیں اور وسیع و عریض شاپنگ مالز کا رواج نہیں ہوا تھا تو شہر بھر میں ڈھیر سارے درخت، پھول اور سبزہ تھا۔ اب تو پورے شہر میں کوئی کھلی جگہ نظر نہیں آتی بلکہ ایک چھوٹا سا کونا بھی اگر خالی ملتا ہے تو اگلے دن وہاں پر کسی نۓ برانڈ کی دکان یا ریستوران کھل جاتا ہے۔ کوئی قریہ ایسا نہیں بچا جو اس ترقی سے آلودہ نہ ہوا ہو۔ جبکہ اس وقت جب درختوں کی بہتات تھی تو دور دور سے پرندے آکر یہاں ڈیرے ڈالتے تھے۔ غروبِ آفتاب کے وقت جب بھی آسمان پر نگاہ ڈالتے تھے تو پرندوں کے مختلف گروہ وقفوں وقفوں سے واپس اپنے گھونسلوں کو لوٹتے ہوۓ دکھائی دیتے تھے۔ دس پندرہ سفید رنگ کے بڑے بڑے پرندوں کا ایک غول مشرق سے مغرب کی سمت جا رہا ہے تو اس کے تھوڑی دیر بعد اس کے پیچھے چند چھوٹے رنگین پرندوں کا ایک جھنڈ چلا آرہا ہے۔ پاس ہی کہیں سے چڑیاں چہچہاتی ہوئی سنائی دے رہی ہیں اور کئ دیگر پرندے ہوا میں تیر رہے ہیں۔ رات کے وقت خصوصاً بہار کی راتوں میں اکثر اوقات پودوں اور پھولوں کے پاس جگنو اڑتے ہوۓ دکھائی دیتے تھے۔ جب میں کافی چھوٹا تھا تو کئی بار اڑتے ہوۓ جگنو کو پکڑ اپنی قمیص کی آگے والی جیب میں ڈال لیتا تھا جس سے باہر سے دیکھنے میں وہ جلتی اور بجھتی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ کتنی کتنی دیر تک ہم بچے جگنوؤں کو مٹھیوں میں پکڑ کھیلتے رہتے تھے اور اس کے جلنے بجھنے کے عمل سے محظوظ ہوتے رہتے تھے۔ یہ عجیب سے کھیل شاید اب بہت عجیب لگتے ہوں مگر تب موبائل اور گیجٹس وغیرہ ابھی ہم تک نہیں پہنچے تھے اس لیے اس وقت اسی قسم کے کھیل کھیلے جاتے تھے۔ مجھے نہیں معلوم وہ دور اچھا تھا یا یہ اچھا ہے۔ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ میں نے جس ماحول میں اپنا بچپن گزارا وہ بہتر تھا یا جو بچے اب گزار رہے ہیں وہ بہتر ہے۔ میں ان دونوں میں کوئی موازنہ بھی نہیں کر رہا ہے۔ مجھے اس بات کا بھی علم نہیں کہ میرے ہم عمر یا وہ لوگ جو میری ہی طرح اس قسم کے عجیب و غریب کھیل کھیل کر بڑے ہوۓ اب اتنے سارے تغیرات کو دیکھ کر کیا محسوس کرتے ہیں اور ان کی پسند کیا ہے، یہ جدید طرزِ حیات یا وہ طرزِ زندگی جو انہوں نے اپنے بچپن اور لڑکپن میں گزارا۔ ممکن ہے ان کے خیالات اور ان کے احساسات اس بارے میں مجھ سے مختلف ہوں لیکن جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے مجھے نیچر کے قریب رہنا زیادہ پسند ہے۔
بہار کے بعد جس دوسرے موسم کا ذکر ادب میں سب سے زیادہ ملتا ہے وہ خزاں اور پت جھڑ کا موسم ہے۔ شاعری و ادب میں اس موسم میں پتوں کے گرنے، برگ و بار کے جھڑنے اور درختوں کے بالکل خشک ہو جانے کے عمل کو زوال، غم اور اداسی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کسی کو محبوب کی جدائی کا غم ہے تو وہ خواہ مخواہ اپنے شعروں میں خزاں کو بدنام کرتا چلا جا رہا ہے، کسی کو قوم کے زوال کا تذکرہ چھیڑنا ہے تو اسے بھی پت جھڑ کا موسم ملتا ہے اور اگر کسی کو زندگی و سماج کے دکھوں، مصائب اور مسائل پر ٹسوے بہانے ہیں تو بھی وہ اس موسم کا سہارا لے رہا ہے۔ بھائی لوگو! اگر تمہیں اپنے رنج و غم کا اظہار کرنا ہے تو شوق سے کرو لیکن بے چارے خزاں و پت جھڑ کے موسم کو کیوں بیچ میں لاتے ہو۔ اس نے تم لوگوں کا کیا بگاڑا ہے۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو سچی بات ہے مجھے تو اس موسم میں کوئی بھی غم، دکھ اور اداسی والی بات نظر نہیں آتی بلکہ مجھے تو اس موسم میں بھی بڑی راحت و مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ اس موسم کا بھی اپنا ایک حسن ہے۔ جب درخت اپنا سبز خلعت اتار کر اور پتے اپنا رنگ بدل کر آہستہ آہستہ زمین پر اترتے ہیں تو یہ منظر بھی اپنے اندر بڑی جاذبیت رکھتا ہے۔ ہاں البتہ جب درخت سے پتے مکمل طور پر جھڑ جاتے ہیں اور پیچھے صرف خشک ٹہنیاں رہ جاتی ہیں تو اس وقت اس کی خوبصورتی اور کشش ضرور ماند پڑتی ہے مگر حقیقتاً اس موسم کا لطف بھی کسی دوسرے موسم سے کم نہیں۔ مگر اس کے ساتھ بھی المیہ یہ ہے کہ اس موسم کا بھی ادراک و احساس آپ کو تب ہی ہوتا ہے جب آپ کے اردگرد درخت، پھول اور پودے وغیرہ ہوں اور آپ نیچر کے قریب رہ رہے ہوں۔ ورنہ یہ موسم بھی آپ کو بغیر اطلاع دیۓ خاموشی سے گزر جاتا ہے۔
ان دو موسموں کے علاوہ ادب کا سب سے محبوب موسم موسمِ برسات ہے۔ ہر دوسرا شاعر بارش پر شعر کہنے کو اپنا فرضِ منصبی سمجھتا ہے۔ نثر میں بھی اکثر اس موسم کا بیان کسی نہ کسی صورت ضرور آتا ہے۔ یہ ایک ایسا موسم ہے جس سے تقریباً ہر خطے کے لوگ مستفید ہوتے ہیں، چاہے آپ سرد علاقوں میں رہ رہے ہوں یا گرم مرطوب خطوں میں بارشیں ہر جگہ برستی ہیں بلکہ کئ علاقوں میں تو بے تحاشا بارشیں ہوتی ہیں اتنی کے کئی کئی دنوں تک چلتی ہیں جسے عموماً جھڑی لگنا کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی ساون کی جھڑی بہت عام ہے اس لیے شعر و ادب میں بھی اس کا بہت ذکر ملتا ہے۔ بارشوں سے ندی، نالے، جھیلیں، دریا بھر جاتے ہیں اور پھول، پودے، سبزہ نکھر کر تر وتازہ ہو جاتا ہے جس سے ان کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔ میری اپنی بچپن کی بہت سی یادیں اس موسم سے وابستہ ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا کہ شدید گرمی ہے اور سب کا برا حال ہوا جا رہا ہے اتنے میں اچانک آسمان پر بادل نمودار ہونا شروع ہوگۓ اور کچھ ہی دیر میں جل تھل ہو گیا۔ ہم بچے اپنے اپنے گھروں سے نکل آتے اور پانی سے بھری گلیوں میں دوڑتے بھاگتے رہتے۔ کسی میدان میں یا کسی کھلی جگہ پر ڈھیر سارا پانی اکٹھا ہو جاتا جس سے وہاں ایک تالاب سا بن جاتا، ہم وہاں گھس جاتے اور دیر تک وہاں ایک دوسرے پر پانی پھینکتے، چھینٹے اڑاتے اور دوڑتے بھاگتے رہتے۔ بارشوں سے لطف اندوز ہونے کے اور بہت سے طریقے لوگوں نے نکالے ہیں اور ان میں سے ایک مختلف اقسام کے پکوان تیار کرنا بھی ہے۔ سردیوں کی بارشیں ہوں یا گرمیوں کی باذوق لوگ اس میں پکوڑے، سموسے، سوپ، چاۓ، کافی وغیرہ کا لازماً اہتمام کرتے ہیں۔ جو لوگ یہ سب چیزیں کھانے سے عموماً پرہیز کرتے ہیں معلوم نہیں کیوں بارشوں کے دنوں میں ان کا بھی یہ سب کچھ کھانے کو جی للچا اٹھتا ہے۔ ان کے علاوہ جو نہایت اعلیٰ قسم کے باذوق لوگ ہیں وہ بارشوں سے لطف اندوز ہونے کے لیۓ کچھ اور اہتمام بھی کرتے ہیں لیکن ان کا ذکر یہاں مناسب نہیں۔
جہاں باذوق لوگوں کی کئ اقسام ہیں وہیں بارشوں کی بھی بہت سی قسمیں ہیں۔ سب سے پہلے نمبر پر آتی ہیں وخشی بارشیں۔ یہ ایسی بارشیں ہوتی ہیں جو نہایت بدتمیزی سے برستی ہیں، یہ غیض و غضب سے بھری رہتی ہیں اور سب کچھ تہس نہس کر دیتی ہیں یہ تنہا آتی بھی نہیں بلکہ اپنے ساتھ تند و تیز ہوائیں بھی لے آتی ہیں۔ ان بدتہذیب بارشوں سے لطف اندوز ہونا تو درکنار لوگ ان سے پناہ مانگتے ہیں۔
دوسری قسم کی بارشیں وہ بارشیں ہوتی ہیں جنہیں سست و بے ضرر بارشیں کہا جاتا ہے۔ یہ اس قدر سست رفتاری سے برستی ہیں کہ معلوم ہی نہیں ہوتا برس رہی ہیں کہ رکی ہوئی ہیں۔ یہ بارشیں اس قدر بے ضرر ہوتی ہیں کہ آپ کو بالکل بھی بھگوتیں یا نقصان نہیں پہنچاتیں۔ اگر آپ ایک گھنٹہ بھی ان میں کھڑے رہیں تو یونہی لگتا ہے کہ آپ کو بس گدگدی کرنے آئی ہیں۔ ایسی بارشوں کو عرفِ عام میں بونداباندی کہا جاتا ہے۔
بارشوں کی تیسری قسم وہ ہے جنہیں آپ ترچھی بارشیں کہہ لیں انہیں آپ لاغر و معذور بارشیں بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہ کبھی سیدھی نہیں برستیں بلکہ ترچھی یا ٹیڑھی برستی ہیں۔ آپ سڑک پر جا رہے ہیں اور ان سے بچنے کے لیے آپ کسی سائبان کے نیچے پناہ لیتے ہیں، آپ سمجھتے ہیں کہ اب آپ ان سے محفوظ ہو گۓ لیکن یہ وہاں بھی پہنچ جاتی ہیں اور آپ کو اپنا شکار بنا لیتی ہیں۔ اسی طرح آپ کمرے کے اندر بیٹھے ہیں اور بارش کی آواز سن کر کھڑکی کے پٹ کھولتے ہیں، جونہی آپ نے پٹ کھولے یہ فوراً آپ کو دیکھ لیتی ہیں اور آپ پر وار کر دیتی ہیں۔ آپ نے اپنے بچاؤ میں چاہے جتنی بھی پھرتی سے قدم پیچھے ہٹاۓ ہوں یا کھڑکی کے پٹ بند کرنے کی کوشش کی ہو یہ اس سے پہلے اپنا کام کر چکتی ہیں۔
اس کے بعد آتی ہیں چالاک اور مکار بارشیں۔ ان کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا، یہ اس پل برس رہی ہیں تو اگلے ہی پل آپ کو لگے گا کہ یہ تو بالکل خاموش ہو گئیں۔ آپ کسی کام سے باہر جانے کا ارادہ کرتے ہیں جونہی آپ نے قدم باہر رکھے یہ تیزی سے برسنے لگتی ہیں، آپ جلدی سے واپس آجاتے ہیں اور آکر جیسے ہی صوفے پر بیٹھتے ہیں یہ اچانک تھم جاتی ہیں۔ آپ چند لمحے بیٹھ کر انتظار کرتے ہیں جب آپ کو مکمل طور پر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ تھم چکی ہیں تو آپ اٹھ کر باہر نکل جاتے ہیں ابھی آپ نے آدھا راستہ بھی طے نہیں کیا ہوتا کہ یہ دوبارہ اتنی تیزی سے برسنے لگتی ہیں کہ آپ نہ آگے جانے کے قابل رہتے ہیں اور نہ واپس آنے کے۔ ان بارشوں کی ایک مکارانہ چال یہ بھی ہوتی ہے کہ آپ جس جگہ کھڑے ہیں وہاں یہ خوب برس رہی ہیں آپ گاڑی یا موٹر سائیکل پر یا پیدل ذرا سا فاصلہ طے کر آگے جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں وہاں تو سوکھا پڑا ہے بالکل خشک سالی کا سا سماں ہے۔ آپ خیرت سے مڑ کر پیچھے دیکھتے ہیں تو آپ کو دکھائی دیتا ہے کہ پیچھے کچھ فاصلے پر جہاں سے آپ چلے تھے وہاں تو یہ زاروقطار برس رہی ہیں۔ ایسی بارشیں آپ کو کنفیوز کرنے کے لیے کبھی کبھی دھوپ کے ساتھ بھی برستی ہیں۔
اور آخر میں آتی ہیں وہ بارشیں جو بڑی سیدھی سادی اور بھولی بھالی ہوتی ہیں۔ ایسی بارشیں بڑی باکمال ہوتی ہیں جو بڑے سیدھے اور سادے طریقے سے برستی ہیں۔ ایسی بارشیں برستی تو خوب ہیں مگر مجال ہے جو آپ کی فصلوں، عمارتوں یا اور کسی بھی چیز کو ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں۔ اس طرح کی بارشیں جب بھی آتی ہیں آپ کو کوئی تکلیف پہنچاۓ بغیر اچھی طرح برس کر جاتی ہیں۔ ان بارشوں سے سب اچھی طرح مستفید اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔
موسموں میں ایک موسمِ سرما بھی ہے جسے ادب میں بہت سراہا جاتا ہے اور اکثر اوقات خوب رومانٹیسائز بھی کیا جاتا ہے۔ خصوصاً برف باری کا موسم تو ہر ایک کا محبوب موسم ہے۔ جو لوگ ان علاقوں میں رہتے ہیں جہاں برف باری نہیں ہوتی وہ خاص طور پر پیسے خرچ کرکے ان علاقوں میں گھومنے جاتے ہیں جہاں برف باری ہو رہی ہو۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو جانا تو چاہتے ہیں مگر جا نہیں پاتے تو میں ان سے کہوں گا ایسا بھی کیا ہے اس موسم میں بس برف ہی تو ہے۔ اگر آپ کو برف دیکھنے کا زیادہ شوق ہے تو آپ کے گھر میں فریزر ضرور ہو گا خوب برف جمائیں اور خوب دیکھیں اتنی دور جا کر دیکھنے کا بھی کوئی تک ہے اور اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ محض برف نہیں بلکہ برف باری سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو بھیا کسی کو کہیں وہ برف لے کر چھت پہ جاۓ اور اوپر سے خوب برف باری کرے۔ اب آپ یہ کہیں گے یہ تو سنگ باری کے مترادف لگتا ہے۔ تو بھائی میرے یہ بھی اگر۔۔۔
مفت ہاتھ آۓ تو برا کیا ہے۔۔۔
اس کے بعد آتا ہے وہ موسم جس سے ادب میں سوتیلوں سا سلوک کیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں کہ اس کا ذکر نہیں کیا جاتا، ذکر تو کیا جاتا ہے اور خوب کیا جاتا ہے مگر بڑے برے الفاظ میں کیا جاتا ہے۔ اس موسم سے کسی کو چاہت نہیں اس لیے ادب میں اسے ولن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ سب اس کے لتے لیتے ہیں اور اسے ایک ظالم کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ کوئی اس کی شدت کا بڑا خوفناک اور تکلیف دہ منظر پیش کرتا ہے اور کوئی جو زیادہ انقلابی ہے وہ اسے مزدوروں اور کسانوں کا بدترین دشمن قرار دیتا ہے۔ سب اس کی سختیوں سے تنگ ہیں۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس موسم کی کہیں بھی پذیرائی نہیں کی جاتی ہمارے ہاں نہ سہی مگر سرد علاقوں میں جہاں یہ موسم بہت تھوڑی دیر کے لیۓ آتا ہے اور جس کی شدت بھی اتنی نہیں ہوتی وہاں اس کی خوب آؤ بھگت کی جاتی ہے۔ اس لیے ان کے ادب میں اس موسم کے بھی محاسن بیان کیۓ جاتے ہیں جو ہمیں زہر لگتا ہے۔ کئ ایسی نظمیں حتیٰ کہ گیت بھی آپ کو مل جائیں گی جو اس موسم کو بھی رومانٹیسائز کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے لوگوں نے چند ایک طریقے نکال ہی لیے ہیں۔ اکثر لوگ خصوصاً لڑکے بالے اس موسم میں نہروں، ندی، نالوں، ٹیوب ویلوں اور تالابوں میں نہاتے ہوۓ پاۓ جاتے ہیں۔ وہاں آپ کو ایسے لوگ بھی مل جاتے ہیں جو سال بھر میں بس انہی دنوں نہاتے ہیں۔ ایسے لوگ جب پانی میں اترتے ہیں تو پانی شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے شاید اسی لیے اس کی رنگت بدل جاتی ہے۔
نہانے کے علاوہ اس موسم کا لطف یہ ہے کہ اس موسم میں کئی اقسام کے مشروبات کی دکانیں گلیوں اور سڑکوں میں کھل جاتی ہیں۔ کہیں گنے کی رو کی دکان نظر پڑتی ہے تو کہیں املی آلو بخارے کی ریڑھی لگی دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف باداموں والے شربت کا ٹھیلہ ہے تو دوسری طرف لیمن سوڈا پینے کو مل جاتا ہے۔ ان کے علاوہ گھروں میں بھی لسی اور دیگر کئی طرح کے شربت بنا کر پیے جاتے ہیں۔ لیکن ان سب سے بڑ کر اگر کوئی لطف واقعی اس موسم کا ہے تو وہ راتوں کو چھت پر یا کھلے آسمان کے نیچے سونا ہے۔ شہروں میں کھلے میں سونے کا رواج تو تقریباً ناپید ہو چکا ہے مگر دیہاتوں میں ابھی بھی بہت سے لوگ کھلے میں سوتے ہیں۔ رات کی تاریکی، سکوت اور اوپر تاروں بھرے پراسرا آسمان کا بھی اپنا چارم ہے جو آپ کو مسحور کر دیتا ہے۔
یہ تمام موسم یقیناً بہت عمدہ ہیں لیکن ان سب سے صرف اسی وقت مستفید ہوا جا سکتا ہے جب آپ کو تمام بنیادی ضروریات زندگی میسر ہوں اور بنیادی حقوق اور آزادی حاصل ہو۔ جبر و استحصال کے موسم میں نہ تو ذہنی سکون حاصل ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی لطف کشید کیا جا سکتا ہے پھر چاہے آپ یوگا کریں، میڈیٹیشن کریں، تھراپی لیں یا عبادت کریں۔
Post a Comment
Thank you for your comment