Drizzling Of Love

Drizzling Of Love

 



آپ نے بہت سی باتوں اور بہت سے کاموں کے فوائد سنے ہوں گے جیسے کہ ورزش کے فوائد، صبح کی سیر کے فوائد یا سبزیاں کھانے کے فوائد وغیرہ۔ لیکن آپ نے کبھی بھی فراغت کے فوائد نہیں سنے ہوں گے۔ آپ نے کبھی یہ نہیں سنا ہو گا یا کہیں نہیں پڑھا ہو گا کہ فارغ رہنے کے یہ یہ جسمانی، ذہنی، فکری، مالی یا سماجی فوائد ہوتے ہیں۔ آپ نے کبھی کسی کی سی وی میں یہ لکھا نہیں دیکھا ہو گا کہ میرا اتنے برس فارغ رہنے کا تجربہ ہے یا مہارتوں کے خانے میں اس نے یہ درج کیا ہو کہ مجھے فارغ رہنے کے مختلف طریقوں پر عبور حاصل ہے۔ اسی طرح کسی لڑکی یا لڑکے کا رشتہ کرتے وقت کوئی یہ نہیں کہتا کہ ہماری لڑکی یا لڑکے کو فارغ رہنے پر جو ملکہ حاصل ہے کسی اور کو حاصل نہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود میں نے فراغت کے چند فوائد بہرحال دریافت کر لیے ہیں۔ جو آپ کو بھی بتاۓ دیتا ہوں۔


فارغ رہنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آدمی فلسفی بننے کے بہت قریب پہنچ  جاتا ہے۔ وہ ان باتوں پر بھی غور کرتا چلا جاتا ہے جنہیں عموماً توجہ کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔ مثلاً چھت والے پنکھے کے تین پر کیوں ہیں چار کیوں نہیں۔ اگر پر کم رکھنے کے پیچھے حکمت یہ تھی کہ اس سے ہوا زیادہ ملتی ہے تو پھر تین کی جگہ دو پر کیوں نہ رکھے گۓ؟ بالکل اسی طرح فراغت میں یہ بات بھی قابلِ غور بن سکتی ہے کہ جب ہوا کا ہلکا سا جھونکا آتا ہے یا بارش کا ایک قطرہ گرتا ہے تو بجلی کیوں بند کر دی جاتی ہے اور پھر جب بارش یا ہوا رک جاتی ہے تو بجلی اسی وقت واپس کیوں نہیں آتی وہ چار، پانچ گھنٹے بعد کیوں آتی ہے؟ لوڈشیڈنگ کو تو ہم سمجھ سکتے ہیں لیکن بارش اور ہوا کی وجہ سے بجلی بند کرنے کے پیچھے کیا منطق ہے یہ بالکل سمجھ سے باہر ہے۔ یہ میرے خیال میں اس سوال سے بڑا سوال ہے کہ کائنات کسی ازخود حادثے کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی منصوبہ ساز ہے، یا یہ سوال کہ وقت کی تخلیق کب ہوئی؟ یا پھر یہ کہ کائنات میں پھیلے ہوۓ ڈارک میٹر کا کیا راز ہے؟ بہرحال بارش یا ہوا کے سبب بجلی جانے کا راز ابھی تک راز ہے اور کائنات کے تمام رازوں سے بڑا راز ہے۔ 


دوسرا بڑا فائدہ جو فارغ رہنے کا ہو سکتا ہے وہ یہ کہ آپ سے کوئی ادھار نہیں مانگتا۔ اس بات پر کچھ انٹلکچول قسم کے لوگ یہ کہیں گے کہ اس سے آدمی خود بھی تو ادھار مانگنے کی حالت میں آجاتا ہے۔ ایسی بیہودہ اور بیکار قسم کی باتوں پر توجہ دینے کی چنداں ضرورت نہیں ایسے لوگوں کو تو ہر بات میں مین میخ نکالنے کی عادت ہوتی ہے۔ اس لیے آپ اپنی تمام تر توجہ فراغت کے فوائد پر مرکوز رکھیں۔ 


تیسرا فائدہ جو فارغ رہنے کا میرے نزدیک ہو سکتا ہے وہ یہ کہ جب آدمی کوئی کام کرتا ہے (ملازمت وغیرہ) تو اسے اس کام کا معاوضہ ملتا ہے جس سے اسے طرح طرح کی پریشانیاں لاحق ہو جاتی ہیں۔ اسے یہ فکر کھاۓ جاتی ہے کہ وہ اپنی محدود اور قلیل آمدنی کو کہاں کہاں اور کیسے خرچ کرے۔ بجلی، گیس کے بل بھرنے ہیں، بچوں کے سکول کی فیس دینی ہے، کوئی بیمار ہو جاۓ تو اس کا علاج کرانا ہے۔ گھر کا کرایہ دینا ہے، اس کے علاوہ کھانے پینے اور دیگر سینکڑوں اخراجات کو پورا کرنا ہے۔ یہ سب باتیں اسے پریشان کیۓ رکھتی ہیں مگر جب آدمی مکمل طور پر فارغ ہو تو اس کے پاس آمدنی ہو گی نہیں اس لیۓ اسے کیسے اور کہاں خرچ کرنے والی تمام پریشانیوں اور دباؤ سے وہ محفوظ رہے گا۔  


فراغت کا ایک اور فائدہ یہ ہوتا ہے کہ فارغ انسان کے پاس ڈھیر سارا وقت ہوتا ہے یہ سوچنے کے لیے کہ کن کن طریقوں سے مزید فارغ رہا جا سکتا ہے۔


فارغ رہنے کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ غالب بھی فراغت کے فوائد سے بخوبی آگاہ تھے اسی لیے تو انہوں نے کہا تھا۔ 


جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی 'فراغت' کے رات دن۔۔۔ ہاں میں جانتا ہوں انہوں نے فراغت کی بجاۓ فرصت کے رات دن کہا تھا مگر ان دونوں میں فرق ہی کیا ہے۔  البتہ وہ شاید یہ بھول گۓ تھے کہ تصورِ جاناں میں بیٹھے رہنا بھی تو باقاعدہ ایک کام ہے۔


 بات فراغت کے فوائد کی ہو رہی ہے تو اس کے ساتھ اگر مصروفیت کے نقصانات کا ذکر بھی کر لیا جاۓ تو کیا ہرج ہے۔ کیونکہ جہاں فراغت کے فائدے ہیں وہاں مصروفیت کے نقصانات بھی تو ہو سکتے ہیں۔ لہذا میرے نزدیک مصروفیت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مصروف آدمی زندگی کو بالکل سمجھ نہیں سکتا کیونکہ وہ زندگی کو بہتر بنانے میں جٹا رہتا ہے۔ جبکہ سیانوں کا کہنا ہے کہ زندگی کو بہتر بنانے سے زیادہ زندگی کو سمجھنا ضروری ہے اور زندگی کو سمجھنے کے لیے فارغ رہنا بہت ضروری ہے۔  


مصروفیت کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ مصروف آدمی بعض اوقات مالی طور پر آسودگی و خوشحالی حاصل کر لیتا ہے جس سے اس کے اندر تکبر پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ جبکہ بڑے لوگوں بلکہ بہت بڑے بڑے لوگوں کا کہنا ہے کہ جس کام سے برائی پھیلنے کا اور نقصان کا ذرا سا بھی خدشہ ہو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اسی لیے عورتوں کو حجاب اور پردے پر مجبور کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے مردوں کے بہکنے کا اندیشہ ہوتا ہے، اس کے علاوہ ان کو گھر کی چار دیواری میں رکھنے پر زور دیا جاتا ہے کیونکہ اس سے بے راہ روی پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ سائنس اور عقل الحاد کی طرف لے جاتی ہیں اس لیے اس سے بھی دور رہنا ضروری ہے۔ مجھے لگتا ہے اس اصول کو ان امور کے علاوہ دیگر امور پر بھی لاگو کرنا چاہیے۔ جیسے کہ جہاز پر بیٹھنے پر پابندی ہونی چاہیۓ اس لیے کہ جہاز کے گرنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ دوا کھانے پر ممانعت ہونی چاہیۓ کیونکہ اس کے سائیڈ افیکٹس ہو سکتے ہیں۔ سیڑھیاں چڑھنے اترنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ اس سے پاؤں پھسلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ بلکہ میرے خیال سے تو بچے پیدا کرنے پر ہی پابندی لگا دینی چاہیے کیونکہ یہی بچے بڑے ہو کر برائی اور گناہ کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ جب بچے ہوں گے ہی نہیں تو وہ یقیناً بڑے بھی نہیں ہوں گے جب بڑے نہیں ہوں گے تو گناہ بھی نہیں کریں گے۔ 


جب بات کسی کے سود و زیاں پر ہو رہی ہے تو پاکستان کا ذکر نہ آۓ ایسا ممکن نہیں۔ مجھے لگتا ہے پاکستان میں چاہے آپ مصروف رہیں یا فارغ اس کے نقصانات تو بغیر کسی تردد کے ڈھیروں گنواۓ جا سکتے ہیں مگر فائدہ تلاش کرنا خاصا دشوار ہے۔ اس بات کا ذکر جب میں نے اپنے ایک دوست سے کیا تو اس نے کہا 'اس ملک میں رہنے کا مادی فائدہ چاہے کوئی نہ ہو مگر ایک روحانی فائدہ بہرحال ضرور ہے۔' میں نے پوچھا وہ کیا؟ کہنے لگا۔ 'اس ملک میں رہ کر جب ہم بے روزگاری، مہنگائی، کم آمدنی، بجلی، گیس کی بندش، صاف پانی کی عدم دستیابی، کھڈوں سے بھرپور ناپائیدار سڑک، ہر سو گندگی، غلاظت، افراتفری، ہنگامہ آرائی و ہنگامہ خیزی اور اس قسم کے سینکڑوں ہزاروں مسائل کا سامنا کرتے ہیں جن کا ہم کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے اور سواۓ برداشت کرنے کے کچھ بھی نہیں کر پاتے تو اس سے ہم میں صبر کی قوت قوی ہوتی ہے۔ اسی طرح جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اتنے سارے مسائل کے باوجود ہم  ابھی تک زندہ ہیں اور سانسیں لے رہے ہیں تو ہم میں شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ صابر اور شاکر کو چونکہ جنت کی بشارت دی گئ ہے لہذا اس ملک میں رہنے کا یہ روحانی فائدہ ہے۔ اور چونکہ تم اور میں دونوں  جانتے ہیں کہ دنیا کی زندگی تو عارضی زندگی ہے جو محض دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ اصل زندگی اگلی زندگی ہے۔ اس لیے اس کے پیچھے بھاگنے کی بجاۓ اس ملک میں رہ کر اس روحانی فائدے سے فائدہ اٹھانا چاہیۓ اور اپنی آخرت سنوارنی چاہیۓ۔'


میں تو اپنے دوست کی بات سے مکمل طور پر متفق ہوں کیا آپ بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں؟




  




  

Post a Comment

Thank you for your comment

Previous Post Next Post