!پیارے پاکستانیو
امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ میں جو خط تحریر کرنے جا رہا ہوں وہ اصل میں ایک معافی نامہ ہے جسے انگریزی میں کنفیشن کہتے ہیں جو دراصل اپنی کسی غلطی یا گناہ کے اعتراف کے لیے لکھا جاتا ہے۔ میں نے بھی چاہا کہ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کے اعتراف کے طور پر ایک معافی نامہ اہلیانِ پاکستان کے نام تحریر کروں۔ لہذا میں نے یہ خط لکھنے کا ارادہ کیا۔
پیارے پاکستانیو! میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ میں کل تک پاکستان کو ایک گھٹیا ملک اور پاکستانی قوم کو ایک گھٹیا قوم سمجھتا تھا۔ مجھے اس میں کئی طرح کی برائیاں نظر آتی تھیں۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں غلطی پر تھا۔ آج میں جان چکا ہوں کہ یہ ملک بہت شاندار ملک ہے اور یہ قوم سب قوموں سے برتر اور اعلیٰ ہے۔ اس کا نظامِ معیشت، معاشرت اور سیاست بہت عمدہ و باکمال ہے۔ لوگ بہت سچے، دیانتدار اور خوش اخلاق ہیں اور ایک دوسرے سے نہایت حسنِ سلوک سے پیش آتے ہیں۔ شرافت و پاکیزگی ان کے چہروں پہ لٹکتی دکھائی دیتی ہے۔۔۔معاف کیجیے میرا مطلب ہے چہروں سے ٹپکتی دکھائی دیتی ہے۔
میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ یہاں بھوک و افلاس، بدحالی و بدانتظامی اور تنگ دستی و تنگ نظری کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔ تعصب و نفرت اور بدامنی و بد عنوانی کا بھی کہیں گذر نہیں۔ بلکہ ہر فرد آزاد و خودمختار، خوشحال و خوش گوار اور پرامن و پر سکون زندگی بسر کر رہا ہے۔ سماجی انصاف کا یہ عالم ہے کہ مظلوم چاہے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو وہ بلا خوف و خطر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور عدالت کو اسے انصاف مہیا کرنے میں ذرا بھی تردد نہیں ہوتا۔ بلکہ اکثر اوقات عدالت خود مظلوم کے دروازے تک جاتی ہے اور اسے انصاف مہیا کرکے لوٹتی ہے۔ رہا معاشی انصاف! تو جہاں دنیا میں ابھی تک کوئی ایک بھی انسانی معاشرہ ایسا نہیں جو معاشی لحاظ سے مکمل طور پر عدل پر قائم ہو یا ماضی میں رہا ہو، وہاں اس قوم نے عدل و مساوات پر مبنی ایسا شاندار معاشی نظام متعارف کرایا ہے کہ امیر و غریب کے درمیان تفاوت بالکل مٹ گیا ہے۔ اب شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے ہوۓ نظر آتے ہیں۔ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ شیر کون ہے اور بکری کون۔
مجھے لگتا تھا یہاں تعلیم کا نظام بھی بہتر نہیں مگر میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں یہاں بھی غلط تھا۔ اس ملک میں ایسا غصب کا تعلیمی نظام رائج ہے جسے دوسری قومیں رشک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ کچھ قومیں تو حسد کی نگاہ سے بھی دیکھتی ہیں۔ (ایسے حاسدوں سے اللہ بچائے) حقیقتاً یہ خطہ اس قدر علم کا گہوارہ بن چکا ہے کہ دور دراز سے طالب علم یہاں کی اعلیٰ معیار کی درسگاہوں اور تعلیمی اداروں میں تعلیم پانے آتے ہیں۔ دنیا بھر سے علم کے متلاشی اپنی پیاس بجھانے جوق در جوق یہاں چلے آتے ہیں۔ سائنس، ادب، آرٹ، تاریخ، تخلیق کون سا شعبہ ایسا ہے جس میں اعلیٰ معیار کا کام نہیں ہو رہا۔ دنیا کے بڑے بڑے سائنسدان، شاعر، مفکر، ادیب، مؤرخ، فلاسفر سب اسی سرزمین سے تو نکلے ہیں۔
مجھے اس کے شہر و دیہات بھی کوئی زیادہ پسند نہیں تھے میں اس کے لیۓ بھی معافی کا طلبگار ہوں۔ اب میں مانتا ہوں یہاں کا ہر شہر اور ہر دیہات بہت شاندار اور بہت جاندار ہے۔ نہ صرف بڑے شہروں میں بلکہ چھوٹے شہروں یہاں تک کہ دور دراز کے دیہاتوں میں بھی تمام بنیادی سہولتیں میسر ہیں۔ ہر شہر اور گاؤں صفائی ستھرائی، نفاست اور حسن و جمال کا ایسا مرقع ہے کہ تمام دنیا کے لوگ خصوصاً سیاح اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ترستے ہیں اور یہاں آنے کے لیے مرے جاتے ہیں۔
بات کچھ لمبی ہو گئی۔ کہنے کا مطلب بس اتنا ہے کہ پہلے مجھے اس ملک کی یہ خوبیاں اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے دکھائی نہیں دیتی تھیں مگر اب میری آنکھیں کھل چکی ہیں اور مجھے ادراک ہو چکا ہے کہ یہ ملک و قوم کتنے بلند اوصاف کے مالک ہیں۔ اس قدر خوبیوں کی مالک سر زمین اور ایسے باکمال خصائل کے ملک کو چھوڑ کر جانے کو جی تو نہیں چاہتا مگر میں پھر بھی یہی بہتر سمجھتا ہوں کہ میں یہاں سے کسی دوسرے ملک چلا جاؤں۔ یہی میرے گناہوں کی سزا ہے۔ میں اس ملک میں رہنے کے بالکل بھی قابل نہیں۔ میں نے جتنی غلطیاں، گناہ اور جرائم کیے ہیں میں چاہتا ہوں ان کی پاداش میں مجھے ملک بدر کر دیا جاۓ اور کسی دوسرے جگہ (یورپ وغیرہ میں) پھینک دیا جاۓ۔ جب میں وہاں رہوں گا تو مجھے ٹھیک طرح اس بات کا احساس ہو گا کہ میں کس قدر عظیم ملک کی شان میں گستاخی کرتا رہا تھا۔ ایسی عظیم قوم تو دنیا کی تاریخ میں کبھی بھی نہیں آئی لیکن میں محض اپنے نا شکرے پن کی وجہ سے اس کی دی ہوئی نعمتوں کو سراہ نہ سکا۔ یہ سب کچھ میں وہاں جا کر محسوس کرنا چاہتا ہوں تا کہ میرے گناہوں کا 'پراسچت' ہو سکے۔
آپ کہیں گے میں نے یہاں آنے کی جرات ہی کیوں کی تو دراصل اس میں میرا کوئی خاص قصور نہیں کیونکہ یہ فاش غلطی برسوں پہلے میرے والدین سے سرزد ہوئی تھی۔ انہی کی ملی بھگت کا نتیجہ تھا کہ میں یہاں آ دھمکا۔ یقین کیجیے اگر مجھے اپنی پیدائش پر ذرہ برابر بھی اختیار ہوتا تو میں شاید ایسی جرات و حماقت کبھی نہ کرتا۔ میرے والدین تو اب رہے نہیں لیکن اگر پھر بھی کوئی میرے والدین سے اس بات کی شکایت کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ ان کے پاس جا کر براہِ راست اپنی شکایت پیش کر سکتا ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔ اس سے زیادہ مجھے اور کچھ نہیں کہنا ۔

Post a Comment
Thank you for your comment