جب میں نے اس پر افسانہ لکھنے کا ارادہ کیا تو اسے مرے ہوۓ تین ہفتے گزر چکے تھے۔ وہ مجھ سے اکثر کہا کرتی تھی 'تم اتنی کہانیاں لکھتے ہو مگر تم نے آج تک مجھ پر کبھی کوئی کہانی نہیں لکھی۔' جبکہ میں اس سے کہتا 'تم پر میں کیا لکھوں مجھے نہیں لگتا تم میری کہانی کے لیے کوئی موزوں کردار ہو سکتی ہو۔' یہ بات کسی حد تک سچ بھی تھی اگر واقعی اس کے ساتھ موت کا اندوہناک واقعہ پیش نہ آیا ہوتا تو مجھے اس پر کبھی بھی کہانی لکھنے کا خیال نہ آتا۔ اس کی موت کے حادثے نے مجھے اس پر کہانی لکھنے کے لیے مجبور کر دیا یا شاید یہ میرا احساسِ ندامت تھا جس کے تحت میں نے ایسا ارادہ کیا۔ برسوں پہلے میری اس سے پہلی بار ملاقات ہوئی تھی اور اب جب میں اس پر غور کرتا ہوں تو کبھی تو مجھے لگتا ہے یہ بالکل کل کی بات ہے اور کبھی یوں لگتا ہے اس کو گزرے ہوۓ زمانہ بیت گیا۔ ان دنوں میں فارغ تھا اور سواۓ لکھنے پڑھنے کے اور کچھ بھی نہیں کرتا تھا۔ تقریباً تمام دن میں اپنے کمرے میں کھڑکی کے پاس بیٹھا پڑھتا لکھتا رہتا تھا اور جب کبھی اکتا جاتا تو باہر اس ندی کو دیکھتا رہتا جو میری کھڑکی سے دور کچھ فاصلے پر بڑی سست روی سے بہا کرتی تھی۔ یہ ندی اور میرا گھر راستے میں تھا اور ان دونوں کے درمیان چھوٹی سی سڑک تھی جس پر سارا دن لوگوں کی آمدورفت جاری رہتی تھی۔ وقتاً فوقتاً لوگ یہاں سے گزرتے رہتے تھے لیکن اس طرح کہ بھیڑ کبھی نہیں لگتی تھی۔ اس میں دو ایسی متضاد خصوصیات تھیں جو اس جگہ کو قابلِ رشک بناتی تھیں ایک یہ کہ یہ جگہ شور شرابے سے ہٹ کر بڑی خاموش اور پُرسکون تھی اور دوسری یہ کہ لوگوں کی چہل پہل کی بدولت ویران اور سنسان بھی نہیں لگتی تھی۔ بارونق ہونے کی وجہ سے بوریت کا احساس بھی نہیں ہوتا تھا اور نہ اس قدر بھیڑ اور شورشرابہ تھا کہ بیزاریت اور اکتاہٹ محسوس ہو۔ اس پر مستزاد یہ کہ سامنے ندی کا حسین نظارہ اور فطرت سے قربت کا احساس طبعیت اور مزاج کو ہشاش بشاش کر دیتا تھا۔ اکثر اشیاۓ خورونوش بیچنے والے یہاں سے کچھ نہ کچھ بیچتے ہوۓ گزرتے تھے جن میں کچھ تو پیدل ہوتے تھے اور کچھ موٹرسائیکل اور سائیکل پر سوار چلے آتے تھے۔ موٹرسائیکل سوار بہت کم ٹھہرتے اور بڑی تیز رفتاری سے میری کھڑکی کے پاس سے گزر جاتے تھے مگر پیدل اور سائیکل سواروں کو کئ بار جب کبھی میرا کچھ کھانے کو موڈ ہوتا میں آواز دے کر ٹھہرا لیتا تھا۔ انہی دنوں میں نے اسے اپنی کھڑکی کے سامنے سے گزرتے ہوۓ دیکھا۔ اس نے اس وقت کون سے رنگ کا لباس پہن رکھا تھا وہ تو مجھے اب یاد نہیں رہا شاید سیاہ تھا یا شاید سرخ تھا لیکن اس کے ہاتھ میں چند کتابیں تھیں اور غالباً اس نے آنکھوں پر چشمہ چڑھا رکھا تھا۔ ان دنوں میں اور میرے گھر والے نۓ نۓ اس علاقے میں وارد ہوۓ تھے اور ہم ابھی تک اردگرد کے مکینوں سے پوری طرح آشنا نہیں ہوۓ تھے۔ اس وقت تو میں نے سرسری طور پر اسے اک نظر دیکھا تھا اور پھر بھول گیا تھا مگر چند دن بعد جب میرے گھر والوں نے اردگرد کے ہمسایوں سے روابط قائم کرنے شروع کیے تو مجھے معلوم ہوا وہ ہمارے گھر کے ساتھ ہی ایک دو گھر چھوڑ کر رہتی ہے۔ اس کے بعد جب میرے گھر والوں اور اس کے گھر والوں کے آپس کے تعلقات مزید مستحکم ہوۓ تو دونوں کا ایک دوسرے کے گھر آزادانہ آنا جانا شروع ہو گیا۔ میں تو کسی کے گھر بہت کم جایا کرتا تھا لیکن وہ اکثر یہاں آجاتی تھی۔ اس میں اور مجھ میں بہت سی باتیں مختلف تھیں اور بہت سی باتیں مشترک بھی تھیں لیکن ان سب میں جو سب سے زیادہ مشترک اور نمایاں بات تھی وہ مطالعہ تھا۔ اس سے پہلے مجھے یہ زعم تھا کہ میں بہت زیادہ مطالعہ کرتا ہوں مگر یہ میری خودفریبی تھی حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ وہ مجھ سے بہت زیادہ بہتر مطالعہ کرتی تھی اور شاید کتابیں بھی مجھ سے بہتر پڑھا کرتی تھی۔ اکثر ایسا ہوتا کہ وہ مجھ سے کسی کتاب یا کسی ناول کا ذکر کرتی جو میں نے نہ پڑھا ہوتا کبھی تو میں اسے سچ بتا دیتا کہ نہیں پڑھا لیکن چونکہ بیشتر دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ میں نے وہ کتاب نہ پڑھی ہوتی اس لیے اپنی شرمندگی چھپانے کے لیے میں اس سے جھوٹ بولنے لگا۔ وہ جس کتاب کا ذکر کرتی میں اکثر کہتا ہاں میں نے پڑھی ہے۔ اس کے بعد جب وہ مزید اس کتاب کے بارے میں کوئی بات کرتی تو میں سوچ میں پڑ جاتا کہ اسے کیا جواب دوں۔ اگر اس نے کسی ناول کا ذکر کیا اور میں نے جھوٹ موٹ کہہ دیا کہ ہاں پڑھا ہے تو جب وہ اس کی کہانی یا پلاٹ وغیرہ کے بارے میں بات کرتی تو مجھ سے کوئی جواب بن نہ پڑتا۔ لیکن میں ڈھٹائی اور بے شرمی سے کوئی نہ کوئی بات گڑھ کر اسے بتا دیتا۔ میری بات سن کر وہ مسکرا اٹھتی اور اس کے چہرے اور آنکھوں کے تاثرات سے یونہی لگتا کہ وہ جانتی ہے کہ میں نے یہ کتاب نہیں پڑھی مگر وہ مجھ سے کبھی کچھ نہ کہتی۔ اس کی گفتگو کا انداز بے حد الگ تھا جب وہ دوسروں سے باتیں کر رہی ہوتی تو نسبتاً تیز تیز باتیں کرتی تھی مگر مجھ سے بات کرتے وقت اس کے انداز میں ایک ٹھہراؤ، گہرائی اور نامعلوم اداسی کا رنگ غالب آجاتا۔ پہلے پہل ایسا نہیں تھا یا اس وقت میں نے زیادہ دھیان نہیں دیا تھا مگر اس شام جب میں ابھی تازہ تازہ اپنے کمرے میں وارد ہوا تھا اور کھڑکی کھول کر سامنے ندی کے پاس ایک نوجوان جوڑے کو ہنستے باتیں کرتے دیکھ کر مسکرا رہا تھا وہ اچانک میری کھڑکی کے سامنے آگئ۔ میں نے خیرت سے اسے دیکھا تو اس نے ہنستے ہوۓ کہا۔ 'چونک گۓ؟'
نہیں بس خیران ہوں تم اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو؟'
ہم سیر کرنے کے لیے نکلے ہیں۔ میں تھک گئ تھی تو کھڑکی میں تمہیں دیکھ کر یہاں رک گئ۔'
لیکن باقی لوگ کہاں ہیں نظر تو نہیں آرہے؟' میں نے خیرت سے پوچھا۔
وہ آگے چلے گۓ ہیں۔'
تم اتنی جلدی تھگ گئ تمہارے گھر سے یہاں تک کا فاصلہ کوئی زیادہ تو نہیں۔'
ہاں میں چلتے وقت بہت جلد تھک جاتی ہوں۔ اس لیے مجھے رک رک کر جانا پڑتا ہے۔ شاید زندگی بھی تو ایسی ہی ہے رک رک کر چلنے والی۔'
اس وقت میں نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں اک نامعلوم سی اداسی کی جھلک دیکھی اور یہ کہ جب وہ مجھ سے بات کرتی ہے تو اس کے لہجے اور گفتگو میں اک ٹھہراؤ اور گہرے پن کا احساس ہوتا ہے۔
خیرت ہے اتنے سے فاصلے پر کون تھکتا ہے؟' میں نے پوچھا۔
اوروں کا تو پتہ نہیں میں تھک جاتی ہوں۔۔۔ چھوڑو اس بات کو تمہیں اک بات بتاؤں میں تمہارے لیے دو بڑے مزے کی کتابیں لائی ہوں۔' اس نے فوراً موضوع بدلتے ہوۓ کہا۔ 'بڑی اچھی ہیں تم ضرور پڑھنا۔
اچھا! کہاں ہیں؟'
گھر پر ہیں کل تمہیں دوں گی۔ اچھا اب میں چلتی ہوں وہ دیکھو مجھے سب بلا رہے ہیں۔'
اس سے پہلے میں کچھ کہتا وہ آگے بڑھ گئ۔ میں نے ندی کی طرف دیکھا شام کے ساۓ پھیل رہے تھے اور وہ نوجوان جوڑا واپس لوٹ رہا تھا۔
اگلے دن دوپہر کے وقت وہ میرے گھر آئی اس کے ہاتھ میں وہی دو کتابیں تھیں۔ اس نے کتابیں مجھے پکڑائیں تو میں نے الٹ پلٹ کر دیکھا ایک کتاب افسانوں کا مجموعہ تھی اور دوسری کتاب کسی ڈرامے کی تھی۔
تم یہ ڈرامہ پہلے پڑھنا۔' اس نے کہا۔ 'مجھے یہ ڈرامہ بے حد پسند ہے۔ جب میں نے اسے پہلی بار پڑھا تھا تو میرا بڑا دل چاہا کہ اسے کسی تھیٹر میں جا کر دیکھوں۔ میں نے اردگرد بہت سے تھیٹروں میں پتہ کیا مگر یہ ڈرامہ کسی تھیٹر میں نہیں لگتا۔ ممکن ہے کبھی کسی نے اسے اسٹیج کیا ہو مگر اب یہ صرف کتابی صورت میں دستیاب ہے۔'
ٹھیک ہے میں جلد پڑھوں گا پھر تمہیں بتاؤں گا کیسا لگا۔'
ہاں ضرور بتانا۔ مجھے یقین ہے تمہیں پسند آۓ گا۔'
میں نے وہ ڈرامہ ایک ہی نشست میں پڑھ لیا۔ یقیناً بہت عمدہ ڈرامہ تھا۔ ایک ایکٹ اور دو مناظر پر مشتمل مختصر سی کہانی تھی جس میں صرف دو ہی کردار تھے۔ ایک مرد اور ایک عورت۔ زندگی کے دو بنیادی کردار مرد اور عورت۔۔۔ جو زندگی کی اسٹیج پر نمودار ہوتے ہیں اور مختلف شکلوں، مختلف صورتوں میں پھیل جاتے ہیں۔ جن کے چال چلن، رنگ ڈھنگ ایک دوسرے سے جدا ہونے کے باوجود کتنے مشابہ، کتنے ملتے جلتے ہیں۔ یہی دو کردار ہی تو ہیں جن سے پوری زندگی عبارت ہے۔ انہی دو کرداروں کے مخلتف رنگ ہر سو دکھائی دیتے ہیں۔ تمام کہانیاں، تمام ادب انہی دو کرداروں سے پھوٹتا ہے۔
اگلی بار جب اس سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے اسے بتایا کہ میں کتاب پڑھ چکا ہوں واقعی بہت شاندار ڈرامہ تھا۔ اس نے کہا 'مجھے معلوم تھا تمہیں پسند آۓ گا۔'
مجھے اک اور خیال سوجھا ہے۔' میں نے کہا۔
کیا؟
کیوں نا ہم اس ڈرامے کو اسٹیج کریں۔'
ہم۔۔۔' اس نے خیرت سے کہا۔ 'ہم کیسے کریں اور کہاں کریں؟'
یہیں کرتے ہیں۔'
یہاں کہاں؟'
اپنی گلی میں۔۔۔ یہ جو اپنی سڑک ہے یہاں آمدورفت نسبتاً کم ہے زیادہ تر تو خالی رہتی ہے۔ اردگرد مکان بھی زیادہ نہیں میرے اور تمہارے گھر کے علاوہ تین چار گھر اور ہیں۔ بس انہی لوگوں کو بلا لیں گے اور سڑک پر ہی اسٹیج لگا لیں گے۔'
میں نے بات ختم کی تو وہ سوچ میں پڑ گئی۔ اتنا ہم دونوں جانتے تھے کہ نہ تو ہمارے گھر والوں میں سے اور نہ ہی جس جگہ ہم رہتے تھے وہاں کسی کو بھی اس بات پر کوئی اعتراض ہو سکتا تھا۔
لیکن ہم پرفارم کیسے کریں گے ہمیں ایکٹنگ کہاں آتی ہے؟' چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا۔
نہیں آتی تو کیا ہوا ہم کون سا کسی تھیٹر میں پرفارم کر رہے ہیں یا ہم نے اس میں کوئی ایوارڈ حاصل کرنا ہے۔ اپنے گھر والے اور اردگرد کے چند افراد ہی تو ہوں گے۔ بس تھوڑا سا شغل ہو جاۓ گا، تھوڑی سی تفریح ہو جاۓ گی اور چونکہ کہانی بھی اچھی ہے تو جن لوگوں نے اسے نہیں پڑھا ان تک کہانی بھی پہنچ جاۓ گی۔'
کچھ دیر کی سوچ بچار کے بعد وہ راضی ہو گئ اور ہم دونوں نے اس کے لیے ایک اچھا سا منصوبہ بنانا شروع کر دیا۔ اس کے لیے ہم نے اپنے گھر والوں کو بھی ساتھ ملا لیا اور پھر اس کی تیاری میں لگ گۓ۔ جو بھی گھر میں فارغ ملتا اس کو پکڑ لیتے اور اسے کسی نہ کسی کام پر لگا دیتے۔ چھوٹے بھائی بہنوں کو تو مختلف قسم کے انعام کے لالچ دے کر ہم نے بہت سے کام کرواۓ۔ پہلے ایک دو دن تو وہ خوب مستعدی سے کام کرتے رہے، تجسس اور انعام کی چاہ میں بھاگ کر کبھی یہاں جاتے اور کبھی وہاں، فلاں چیز لانے کو کہا جاتا تو لے آتے اور فلاں جگہ بھیجا جاتا تو فوراً چلے جاتے مگر ایک دو دن کے بعد جب انہیں انعام ملنے کے امکانات کچھ کم نظر آنے لگے تو انہوں نے بغاوت کر دی اور ہر کام سے بھاگنے لگے۔ ایسے میں ہم نے طے کیا کہ انہیں کچھ نہ کچھ کھلانا پڑے گا ورنہ یہ کوئی کام نہیں کریں گے۔ لہذا فوراً ان کے لیۓ پیزا اور کچھ دوسری چیزیں آرڈر کی گئیں۔
تمام کام بخوبی ہوتے رہے مگر جس کام میں سب سے زیادہ ہمیں مشکل پیش آئی وہ مکالمے یاد کرنا اور ریہرسل کرنا تھا۔ بالآخر قریباً ایک ڈیڑھ ہفتے کی محنت شاقہ کے بعد ہماری تمام تیاری مکمل ہو گئ۔ ڈرامے کا دن مقرر کرکے ہم نے اردگرد جو تین چار گھر تھے ان کو دعوت دی۔ یوں تو انہیں پہلے ہی کسی نہ کسی صورت پتہ چل چکا تھا کیونکہ یہاں زیادہ آبادی تو تھی نہیں بس چند گھر اس سڑک پر واقع تھے جہاں ہم لوگ رہتے تھے اور باقی گھر کچھ فاصلے پر دوسری سڑک پر آباد تھے مگر ہم نے اپنی گلی تک محدود رہنا مناسب سمجھا اور صرف نزدیک کے تین چار گھروں کو دعوت دی گئی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اس پورے علاقے میں زیادہ تر لوگ مختلف ملکوں اور علاقوں سے آکر آباد ہوۓ تھے اور ایک دوسرے کی زبان وغیرہ سے بہت کم واقف تھے۔ جن چار پانچ قریب کے گھروں کو ہم نے دعوت دی سبھی نے ہماری دعوت کو خوش دلی سے قبول کیا۔ ان میں سے ایک گھر مسٹر سمتھ کا بھی تھا جو اپنی بیوی کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کا گھر اس سڑک کے اختتام پر جہاں یہ ایک موڑ کاٹ کر دوسری سڑک سے جا ملتی تھی واقع تھا۔ مسٹر سمتھ اور مسز سمتھ کا تعلق بھی دوسرے شہر سے تھا، وہ اپنی زندگی کے آخری ایام کسی پرسکون جگہ پر فطرت کے قریب گزارنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے بھیڑ بھاڑ والے مصروف شہر کو خیرباد کہا اور یہاں آکر بس گۓ۔ دونوں میاں بیوی ہماری دعوت پر بہت خوش ہوۓ۔ مسٹر سمتھ نے ہمیں بتایا کہ اپنے ایام جوانی میں انہیں اداکار بننے کا بہت شوق تھا اس لیے وہ بہت زیادہ اسٹریٹ تھیٹر کیا کرتے تھے اور سڑکوں پر بے شمار اداکاری کے جوہر دکھا چکے تھے لیکن پھر کچھ گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے وہ اس میں آگے نہ بڑھ پاۓ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نہ صرف اداکاری بلکہ کئ کھیل انہوں نے خود بھی لکھے تھے اور ان کھیلوں پر پرفارم کرنے کے علاوہ ان ڈراموں کو چھپوایا بھی تھا جو اس زمانے میں بہت پڑھے جاتے تھے۔ مالی مشکلات کی وجہ سے انہیں اداکاری ترک کرکے ملازمت اختیار کرنی پڑی تھی مگر انہوں نے لکھنا نہیں چھوڑا تھا۔ ملازمت کے دوران وہ مسلسل لکھتے رہے تھے اور نہ صرف ڈرامے بلکہ ان کے دو شعری مجموعے بھی شائع ہو چکے تھے۔ جبکہ دوسری طرف ان کی بیوی بلکل ان کے الٹ تھیں۔ مسز سمتھ نے کہا کہ انہوں نے سواۓ اپنے سکول اور کالج کے نصاب کے علاوہ آج تک اور کوئی ڈرامہ نہیں پڑھا اور صرف چند ڈرامے مسٹر سمتھ کے ساتھ جا کر انہوں نے دیکھے ہیں لیکن انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ دونوں میاں بیوی ہمارے کھیل میں ضرور شرکت کریں گے۔
جب مقررہ دن آیا تو مسٹر سمتھ اور مسز سمتھ دونوں سب سے پہلے تشریف لاۓ۔ ہم سے بہت پرتپاک انداز میں ملے۔ کھیل شروع ہوا تو پورے کھیل کے دوران کئ بار ہم نے ان کی طرف دیکھا کیونکہ ہم جانتے تھے کہ وہ اپنی ماہرانہ نظر سے ہمارا کھیل دیکھیں گے اس لیے ہم ان کے چہرے کی طرف بار بار دیکھ رہے تھے تا کہ ہم دونوں اندازہ لگا سکیں کہ ہم اچھا کر رہے یا نہیں۔ پورے کھیل کے دوران ایک مخصوص مسکراہٹ ان کے چہرے پر کھیلتی رہی جس سے ہم کچھ بھی جان نہ پاۓ کہ انہیں ڈرامہ پسند آرہا یا نہیں۔ جب کھیل ختم ہوا تو وہ خود ہی چل کر ہمارے پاس آگۓ۔ پہلے تو انہوں نے ہماری تعریف کی اور کہا کہ آپ نے بہت عمدہ طریقے سے کھیل پیش کیا ہے پھر انہوں نے ہم سے پوچھا۔ 'تم لوگ جانتے ہو اس کھیل کا مصنف کون ہے؟'
میں نے کہا جی کتاب کے اوپر نام تو لکھا ہوا ہے مگر ہم جانتے نہیں کہ وہ کون ہے۔'
وہ مسکراۓ اور کہا۔ 'یہ کھیل میں نے ہی لکھا ہے۔'
ہم دونوں خیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگے۔ پھر انہوں نے کہا۔ 'وہ جو نام تم لوگوں نے کتاب پر دیکھا ہے وہ اصل میں میرا ہی قلمی نام ہے۔ پہلے پہل میں اپنے قلمی نام سے لکھا کرتا تھا اس لیے اس کتاب پر وہی نام چھپا ہوا ہے۔'
اس کے بعد ہم نے بہت سے ڈرامے اسی سڑک پر اسٹیج کیے جن میں ہم نے بہت سے معاملات میں مسٹر سمتھ کی راۓ بھی لی۔ انہوں نے ہماری اداکاری کے اناڑی پن کو دیکھ کر بہت سی باتوں میں ہماری اصلاح کی اور ہمیں بہت سے مفید مشورے دیے جو ہمارے بہت کام آۓ۔
ایک ڈرامہ ہم نے خود بھی لکھا اور اسے اسٹیج کرنے کے لیے بہت بے تاب تھے۔ اس کی تیاری ہم نے بڑی محنت سے کی۔ مقررہ دن سے ایک دن پہلے جب ہم اس کی ریہرسل کر رہے تھے تو وہ مجھے کچھ تھکی تھکی سی دکھائی دی۔ میں نے پوچھا خیریت ہے آج تمہاری طبعیت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی تو اس نے کہا 'لگتا ہے آج ہمارا آخری ڈرامہ ہے۔'
میں نے خیرت سے پوچھا۔ 'کیوں کیا ہوا؟'
اس نے جواب دیا۔ 'بس ایسے ہی۔'
اگر تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں تو ہم کل رہنے دیتے ہیں پھر کسی دن کر لیں گے۔'
نہیں کل ہی کریں گے۔'
اگلے دن جب ہم اسٹیج پر پہنچے تو وہ پہلے سے بھی زیادہ بجھی بجھی سی نظر آرہی تھی۔ میں نے ایک دو بار اس سے پھر کہا کہ اگر تم ٹھیک نہیں تو رہنے دیتے ہیں مگر اس نے کہا کچھ نہیں ہے ہم آج ہی یہ ڈرامہ کریں گے۔ جب کھیل شروع ہوا تو آغاز میں تو اس نے اچھی طرح مکالمے ادا کیے مگر بعد میں بھولنے لگی۔ ابھی آدھا ڈرامہ بھی نہیں ہوا تھا کہ وہ لڑکھڑا کر گر پڑی۔ فوراً اسے ہسپتال لے جایا گیا۔ اس دن مجھے پتہ چلا کہ وہ بیمار تھی۔ پچھلے کئ برسوں سے اس کی حالت ایسی تھی کہ بس دواؤں پر زندہ تھی۔ یہ بات اس کے گھر والوں کو معلوم تھی کہ کسی وقت بھی اس کی زندگی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ میرے گھر میں سے بھی یقیناً کچھ افراد کو یہ بات پتہ ہو گی مگر میری چونکہ کسی سے بھی اس کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی اس نے خود مجھے کبھی بتایا۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر نے آکر کہا کہ اسے بچایا نہیں جا سکا۔ ایسا سننا تھا کہ میں ہسپتال سے فوراً نکل آیا۔ باہر آکر میں بلا مقصد ایک طرف چلنے لگا۔ سڑک ویران اور سنسان تھی اردگرد تاحد نگاہ بس سبزہ و ہریالی پھیلی تھی اور میرے بائیں جانب وہی ندی تھی جو میرے گھر کے سامنے سے بھی گزرتی تھی۔ ندی کے پار دوسری جانب چند گھر ایک دوسرے سے فاصلے پر کھڑے تھے۔ مجھے اب اس کی وہ تمام باتیں رفتہ رفتہ یاد آنے لگیں جو میں اس وقت سمجھ نہیں پایا تھا۔ اب مجھے سمجھ آرہی تھی کہ اس دن وہ بس چند قدم چل کر کیوں تھک گئ تھی اور اس نے ایسا کیوں کہا تھا کہ میں زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ اب مجھے اس کی اداسی کا مطلب بھی سمجھ آرہا تھا۔ اور وہ بات بھی جب اس نے مجھ سے کہا تھا تم مجھ پر کہانی کیوں نہیں لکھتے تو میں نے کہا تھا تم پر میں کیا لکھوں اور اس کے جواب میں اس نے کہا تھا 'تم ایک دن مجھ پر کہانی ضرور لکھو کے مگر اسے میں پڑھ نہیں پاؤں گی۔'

Post a Comment
Thank you for your comment