Drizzling Of Love

Drizzling Of Love

 




کردار

پہلا آدمی۔ دوسرا آدمی

عمر رسیدہ شیطان اور اس کے دو چیلے۔ 

نوجوان شیطان: جو ہو بہو شیطان کی صورت جیسا دکھتا ہے مگر عمر میں اس سے بہت کم ہے۔


منظر

ایک بڑا سا خوبصورت سا لونگ روم یا حال



پہلا آدمی: تمہیں یاد ہے تم نے پچھلے دنوں اس ملک کے باسیوں کو کتے کہا تھا؟


دوسرا آدمی: ہاں تو؟


پہلا آدمی: تمہاری اس بات پر کتوں نے بہت زیادہ اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ہماری سراسر توہین ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری یعنی کتوں کی قوم کو اس ملک کے باشندوں سے تشبیہہ دے کر ہماری تحقیر کی گئ ہے۔ آخر سماج میں ہماری بھی کوئی عزت ہے۔ 


دوسرا آدمی: ہاں یہ تو ہے۔


پہلا آدمی: پھر تم نے انہیں گندی نالی کے غلیظ کیڑے کہا تھا۔


دوسرا آدمی: ہاں کہا تھا۔


پہلا آدمی: اس پر غلیظ کیڑوں نے شکایت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کو ہم جیسا قرار دینا بہت زیادتی کی بات ہے۔ کیونکہ ہم ان سے افضل ہیں اور ایسا کہنا ہماری عزت نفس پر حملہ کرنے کے مترادف ہے۔ 


دوسرا آدمی: ہوتا ہو گا۔


پہلا آدمی: پھر تم نے انہیں شیطان کی اولاد کہا تھا۔۔۔


دوسرا آدمی: نہیں میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ یہ شیطان کی اولاد ہیں بلکہ میں نے یہ کہا تھا یہ شیطان کی ناجائز اولاد ہیں۔


پہلا آدمی: تو یہ تو اس سے بھی زیادہ گھناؤنی بات ہے۔


دوسرا آدمی: ہاں مگر یہ سچ ہے۔


پہلا آدمی: لیکن تم نے صرف اتنا نہیں کہا بلکہ تم نے اس سے ایک قدم آگے بڑھ کے یہ تک کہا کہ یہ دھندہ کرنے والی عورت کی اولاد ہیں۔


دوسرا آدمی: نہیں میں نے یہ بھی نہیں کہا۔ دھندہ کرنے والی تو ان کے مقابلے میں بڑی شریف عورت ہے کیونکہ ممکن ہے وہ کسی مجبوری سے دھندہ کرتی ہو۔ میں نے تو اصل میں یہ کہا تھا کہ اس ملک کے باشندے شیطان کی راکھیل کی اولاد ہیں۔ شیطان ان کا بائیولوجیکل باپ ہے۔ 


پہلا آدمی: تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ شیطان نے اس پر ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اس پر گھناؤنا الزام ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر یہ میری اولاد ہوتے تو ان میں کچھ تو شرم و حیا ہوتی مگر جیسی حرکتیں یہ لوگ کرتے ہیں میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔ 


دوسرا آدمی: وہ مصروف رہتا ہے اسے کئ طرح کے کام ہوتے ہیں، کر کے بھول گیا ہو گا۔ ایسے افئیر وہ کہاں یاد رکھتا ہو گا۔


پہلا آدمی: لیکن تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو؟


دوسرا آدمی: اس میں کوئی شک والی گنجائش ہی نہیں اس کے ثبوت تو گلی گلی، نگر نگر، قریہ قریہ، شہر شہر، گاؤں گاؤں ہر جگہ  مل جائیں گے۔ چاروں طرف ایسے لوگ سر عام منڈلاتے اور دندناتے پھرتے ہیں جن کی حرکتوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں شیطان کے جراثیم ہیں۔ ایسے لوگوں کی یہاں کوئی کمی تو نہیں جو ڈھونڈنے پڑیں۔ یہ تو واحد ایسی کھیتی ہے جو ہر وقت سر سبز و شاداب رہتی ہے اور جس پر ہر موسم میں ڈھیر سارا اناج اگتا ہے۔ یہ ایک ایسا پیڑ ہے جو پورا سال پھلوں سے خوب لدا پھندا رہتا ہے۔ اس پر کبھی بھی کمی نہیں آتی۔ یہ ایک ایسا درخت ہے جس نے کبھی خزاں نہیں دیکھی، ہمیشہ اس پر فصل بہار طاری رہتی ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے کسی تفتیش، کسی تحقیق کی ضرورت نہیں۔ اس کے لیے تو روزمرہ کے رہن سہن کا مشاہدہ کافی ہے۔ یہ تو بالکل ایسے ہی عیاں اور واضح ہے جیسے مشرق سے ابھرتا سورج۔۔۔ اس کو جاننے کے لیے کسی خبر، کسی ذاتی تجربے یا کوئی گہری بصیرت درکار نہیں یہ تو یوں پیش پا افتادہ حقیقت ہے جس سے انکار محال ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ زیرک آدمی بھی اس کو با آسانی جان سکتا ہے۔ 


پہلا آدمی: لیکن تمہیں ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔


دوسرا آدمی: تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے میرے کہنے سے کسی کو کوئی فرق پڑتا ہے۔ تم نے ان کی نجاست، غلاظت اور خباثت کا اندازہ نہیں لگایا۔۔۔ کیا میرے ایسا کہنے سے کسی کو رتی برابر بھی کوئی فرق پڑا؟ کسی کے کان میں جوں تک بھی رینگی؟ ان میں سے کوئی ایک بھی شخص اپنی حرکتوں سے ذرا سا بھی بعض آیا؟ وہ تو اپنی تمام سرگرمیاں بدستور اسی طرح جاری رکھے ہوۓ ہیں۔ کسی ایک فرد کو بھی کسی قسم کی ندامت اور شرمندگی کا احساس ہوا؟ ان سے بہتر تو شیطان ہے جسے کچھ شرمندگی کا احساس تو ہوا۔


پہلا آدمی: ہاں وہ تو ہے لیکن پھر بھی۔


دوسرا آدمی: چلو چھوڑو یار کوئی اور بات کرو۔


پہلا آدمی: مجھے لگتا ہے مجھے اب چلنا چاہیے۔


دوسرا آدمی: کیوں کیا ہوا رکو تھوڑی دیر۔


پہلا آدمی: نہیں یار ایک دو ضروری کام ہیں پھر آؤں گا۔


دوسرا آدمی: چلو ٹھیک ہے۔ ہوتی ہے پھر ملاقات۔ 


پہلا آدمی: ٹھیک ہے۔


( باہر نکل جاتا ہے)


دوسرا آدمی: (قمیض کو سونگھ کر) مجھے لباس تبدیل کر لینا چاہیے۔ کافی گندا ہو گیا ہے۔


(چلا جاتا ہے۔ اس کے جانے کے بعد شیطان اپنے دو چیلوں کے ساتھ آتا ہے)


شیطان: یہی وہ گھر ہے؟


پہلا چیلا: جی استاد یہی وہ گھر ہے۔ اسی گھر کے ایک آدمی نے آپ پر الزام لگایا ہے کہ آپ نے۔۔۔


شیطان: (ہاتھ کے اشارے سے اسے روک کر) ہاں ہاں ٹھیک ہے پھر سے کہنے کی ضرورت نہیں ہم جانتے ہیں۔ تم یہ بتاؤ وہ آدمی ہے کہاں اس وقت؟


دوسرا چیلا: ابھی تھوڑی دیر پہلے یہیں تھا اندر گیا ہو گا۔ 


شیطان: ٹھیک ہے تم اس پر نظر رکھو ہم اس سے بعد میں نپٹیں گے ابھی ہمیں ایک ضروری کام ہے ہم جا رہے ہیں۔ 


(جانے لگتا ہے لیکن اسی وقت دوسرا آدمی آجاتا ہے)


آدمی: (اسے دیکھ کر ذرا سا چونک جاتا ہے) کون ہو تم؟


پہلا چیلا: یہ وہیں ہیں جن پر تم نے اتنا گھٹیا الزام لگایا ہے۔ 


آدمی: کون۔۔۔ شیطان؟


دوسرا چیلا: تمیز سے نام لو اور صحیح نام لو ان کا۔


آدمی: لیکن ہم سب اسے اسی نام سے پکارتے ہیں۔


شیطان: ٹھیک ہے جانے دو۔ تم یہ بتاؤ تم نے ہم پر ایسا الزام کیوں لگایا؟


آدمی: میں نے تم پر تو کوئی الزام نہیں لگایا۔ میں نے تو جو کہا ہے انسانوں کے بارے میں کہا ہے۔ 


شیطان: جو بھی ہے اس سے ہماری بدنامی ہوئی ہے تم اپنی یہ بات واپس لو۔ ورنہ ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے، میڈیا کے پاس جائیں گے اور سڑکوں پر تمہارے خلاف احتجاج کریں گے۔


آدمی: مجھے اس بات پر خیرت ہو رہی ہے اس میں تمہاری بدنامی کیسے ہوئی ہے تم تو اسی طرح کے کاموں کے لیے شہرت رکھتے ہو اسی لیے تو شیطان کہلاتے ہو۔


شیطان: ہاں یہ ٹھیک ہے ہم اسی طرح کے کاموں کی شہرت رکھتے ہیں مگر ہمارا معیار اتنا بھی گرا ہوا نہیں کہ ہم یہاں کے افراد کو اپنی اولاد کا درجہ دیں۔ 


آدمی: مجھے لگتا ہے بھول چوک میں تم سے یہ کام ہو گیا ہے۔


شیطان: ہرگز نہیں ہم نے کہا نا ہمارا ایسا گھٹیا معیار بالکل نہیں۔ بے شک ہم شیطان ہیں لیکن ہمارے بھی کچھ اصول ہیں۔ 


آدمی: مجھے تمہاری بات پر بالکل بھی یقین نہیں۔ جیسی ان لوگوں کی حرکات ہیں یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کے پیچھے تمہارا ہاتھ نہ ہو۔


شیطان: کہا تو ہے ہم نے یہ نہیں کیا۔ ہو سکتا ہے ہمارے کسی چیلے کا کام ہو۔


آدمی: نہیں اگر تمہارے کسی چیلے کا کام ہوتا تو اس کے اثرات اتنے گہرے نہ ہوتے۔ ہو نہ ہو یہ تمہارا ہی کام ہے۔ جس قدر توانا جراثیم ان میں پاۓ جاتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے یہ تمہاری حرکت ہے۔


شیطان: تو تم اپنی بات واپس نہیں لو گے؟


آدمی: واپس کیسے لوں جو کہہ دیا ہے وہ واپس کیسے ہو سکتا ہے؟ اور میں تو ابھی  تک خیران ہوں تمہیں تکلیف کیوں ہو رہی ہے؟ جن کے بارے میں کہا ہے انہیں تو پرواہ بھی نہیں۔ تمہیں اتنی ندامت محسوس ہو رہی ہے جبکہ انسانوں میں سے تو کوئی ذرہ سا بھی شرمندہ نہیں۔


شیطان: انسانوں کی بات الگ ہے وہ تھوڑے زیادہ بے شرم ہیں لیکن ہم اتنے نہیں ہیں۔ ہماری شیطانوں کی قوم میں یہ بات بہت گھٹیا سمجھی جاتی ہے کہ ہم کسی انسان کے ساتھ ایسا تعلق قائم کریں۔ ہاں انسانوں میں ہمارے چیلے بہت سے ہیں لیکن اولاد کوئی نہیں۔ 


آدمی: تو تم کیا چاہتے ہو میں کیا کروں؟


شیطان: ہم چاہتے ہیں کہ تم یہ بات کہو کہ ہماری کوئی اولاد انسانوں میں نہیں اور یہ کہ ہمارا اس قسم کا کوئی بھی تعلق انسان سے کبھی نہیں رہا۔ بالکل ایسے جیسے تم نے وہ بات کی تھی۔ تم کہو کہ شیطان پر لگایا گیا یہ الزام غلط ہے۔ 


آدمی: میں ایسا نہیں کہوں گا کیونکہ مجھے پورا یقین ہے کہ بہت سے لوگ تمہارے صرف چیلے نہیں بلکہ تمہاری اولادیں ہیں۔ ان کے اندر تمہارا خون دوڑ رہا ہے۔


شیطان: تم سمجھتے کیوں نہیں ہم نے تمہیں بتایا ہے کہ ہم نے کبھی بھی انسانوں کے ساتھ ایسی کوئی حرکت نہیں کی۔ تمہیں یقین نہیں تو ہمارے ان دو چیلوں سے پوچھ لو۔


آدمی: چیلے بھی تو تمہارے ہیں وہ کون سا سچ بتائیں گے۔ 


پہلا چیلا: استاد ٹھیک کہتا ہے اس نے انسان کے ساتھ ایسا تعلق کبھی قائم نہیں کیا۔ تم خود سوچو شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے وہ اس قسم کا تعلق انسان سے کیوں قائم کرے گا؟


آدمی: وہ اس لیے کہ اس طرح اس کے جراثیم انسانوں میں آجائیں اور انسانوں میں بھی جگہ جگہ اس کی اولادیں ہو جائیں تو اس کا کام آسان ہو جاۓ گا۔ اب دیکھو کتنے لوگ انسانوں میں گھوم رہے ہیں جو بالکل اسی کی طرح کی حرکتیں کرتے ہیں۔


دوسرا چیلا: چلو مان لیا بالفرض ایسا ہی ہے استاد ایسا کام کر سکتا ہے مگر تم خود سوچو کون سا ایسا انسان ہے جو شیطان سے اس قسم کا تعلق قائم کرنا چاہے گا؟


آدمی: (بلند آواز سے قہقہہ لگاتا ہے) ایسے انسانوں کے تو ڈھیر لگے پڑے ہیں۔ تمہیں کیا لگتا ہے یہ جتنے بھی مسائل انسانوں کو اس دنیا میں درپیش ہیں یہ کیوں ہیں؟ معاشی سے لے کر خانگی تک اور انفرادی سے لے کر سماجی تک سب مسائل کیا اسی شیطان سے تعلق کے باعث نہیں؟ بھوک و افلاس، جنگ و جدل، دھنگے و فساد سب اسی تعلق کی دین نہیں؟ ظلم و استحصال پر مبنی معاشی و سیاسی نظام، جبر و بربریت کے بل بوتے پر قائم رسوم و رواج سب اسی شیطان و انس کی دو طرفہ محبت کا نتیجہ نہیں؟ سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں انسان ہیں جو اس کی محبت میں اپنا تن من دھن اس کے آگے نچھاور کر دیتے ہیں۔ اپنا دل، دماغ، سب رہن رکھ کر اس کے چرنوں میں گر جاتے ہیں۔ کروڑوں لوگ دن رات اس کی پوجا و عبادت میں لگے رہتے ہیں۔ معمولی سے مفاد کی خاطر اپنے ہی بھائی بند دوسرے انسانوں سے الجھ پڑتے ہیں، عورتوں کی عصمت دری کرتے ہیں، مردوں کو ذلیل و رسوا کرتے ہیں، بچوں سے زیادتی کرتے ہیں اور بزرگوں پر ستم ڈھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس سے دوستی اور محبت کا تعلق قائم کرنے کی خاطر دوسرے انسان کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اور تم کہتے ہو کہ کوئی انسان اس سے تعلق قائم کرنا نہیں چاہے گا۔۔۔  


(پہلا آدمی داخل ہوتا ہے۔ شیطان اور اس کے چیلوں کی عجیب صورت کو دیکھ کر چونک جاتا ہے اور وہیں رک جاتا ہے)


دوسرا آدمی:  گھبراؤ نہیں آجاؤ۔ یہ شیطان اور اس کے چیلے ہیں۔ 


شیطان: فی الحال ہم چلتے ہیں کیونکہ ہمیں ایک ضروری کام ہے لیکن ہم بہت جلد واپس آئیں گے۔ 


(شیطان اور اس کے دونوں چیلے چلے جاتے ہیں۔  


پہلا آدمی: یہ بو کیسی آ رہی ہے؟


دوسرا آدمی: مجھے لگتا ہے یہ شیطان کی بو تھی۔ کیونکہ تھوڑی دیر پہلے یہ یہیں کہیں آس پاس ہی تھا تو میں سمجھا شاید میرے کپڑوں سے بو آرہی ہے۔ مگر جب میں لباس تبدیل کرکے آیا تو یہ اپنے چیلوں کے ساتھ یہیں موجود تھا اور بو سارے کمرے میں پھیلی تھی۔ 


پہلا آدمی: لیکن یہ یہاں لینے کیا آیا تھا؟


دوسرا آدمی: کہہ رہا تھا میں اپنا الزام واپس لے لوں۔ جبکہ میں نے اسے کہا کہ میں نے اس پر تو کوئی الزام نہیں لگایا میں نے تو یہاں کے لوگوں کے بارے میں ایسا کہا ہے۔ مگر وہ کہتا ہے کہ میرے ایسا کہنے سے اس کی بدنامی ہوئی ہے۔ 


پہلا آدمی: تو پھر اب تم نے کیا سوچا ہے؟


دوسرا آدمی: سوچنا کیا ہے میں اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹوں گا چاہے کچھ بھی ہو جاۓ۔ 


پہلا آدمی: اور اگر اس نے منفی ہتھکنڈے استعمال کیے تو۔۔۔آخر شیطان ہے اس سے بہتر رویے کی توقع رکھنا عبث ہے۔ 


دوسرا آدمی: ہاں میں جانتا ہوں مگر کیا بھی کیا جا سکتا ہے کرنے دو جو کرتا ہے۔۔۔تم بتاؤ تم تو چلے گۓ تھے واپس کیسے آۓ؟


پہلا آدمی: جس کام سے گیا تھا وہاں متعلقہ آدمی موجود نہیں تھا کہہ رہے تھے کچھ دیر بعد چکر لگانا۔ پھر میں کہاں جاتا میں نے سوچا چلو یہیں تمہارے پاس ہی آجاتا ہوں۔


دوسرا آدمی: چلو یہ تو اچھا کیا۔ آؤ پھر تم بیٹھو میں چاۓ لے کر آتا ہوں۔


پہلا آدمی: نہیں تم بہت دیر لگاؤ گے۔


دوسرا آدمی: دیر نہیں لگے گی چاۓ بن چکی ہے میں تمہارے آنے سے پہلے چاۓ ہی پینے والا تھا۔ تم بیٹھو میں بس دو منٹ میں آیا۔


(چلا جاتا ہے۔ پہلا آدمی میز کے پاس جاتا ہے اور میز پر سے ایک رسالہ اٹھا کر صوفے پر بیٹھ کر پڑھنے لگتا ہے۔ ساتھ ہی شیطان کے جیسی صورت والا ایک نوجوان داخل ہوتا ہے)


پہلا آدمی: (کھڑے ہو کر) تم کون ہو تمہاری صورت تو شیطان سے ملتی ہے جو ابھی تھوڑی دیر پہلے یہاں سے گیا ہے۔ 


نوجوان: وہ میں تمہیں بعد میں بتاؤں گا پہلے تم بتاؤ تم ہی وہ آدمی ہو جس نے شیطان پر الزام لگایا ہے؟


پہلا آدمی: نہیں میں وہ نہیں ہوں۔


نوجوان: تو پھر وہ آدمی کہاں ہے؟ 


پہلا آدمی: وہ اندر ہے ابھی آجاتا ہے۔ مگر تم یہ بتاؤ تم کون ہو اور یہاں کیا لینے آۓ ہو؟


نوجوان: وہ میں اس آدمی کے سامنے ہی بتاؤں گا۔ تم اس کو جلدی سے بلاؤ۔ 


(دوسرا آدمی داخل ہوتا ہے)


دوسرا آدمی: کون ہے؟ میں تم لوگوں کی آوازیں سن کر چلا آیا میں نے سوچا اب پتہ نہیں کون آگیا ہے۔


نوجوان: (دوسرے آدمی سے) تم وہ آدمی ہو جس نے شیطان پر الزام لگایا ہے؟


دوسرا آدمی: میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ میں نے شیطان پر الزام نہیں لگایا۔ میں نے تو۔۔۔


نوجوان: جو بھی ہے میں تمہیں بتانے آیا ہوں کہ تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔ 


دوسرا آدمی: کیسی غلط فہمی؟


نوجوان: یہی کہ یہ کام شیطان کا ہے۔


دوسرا آدمی: میں کیسے مان لوں؟ صاف نظر آتا ہے کہ اس کام میں شیطان کا ہاتھ ہے۔


نوجوان: تمہاری بات درست ہے اس کے پیچھے شیطان ہی ہے مگر وہ شیطان نہیں۔


دوسرا آدمی: کیا مطلب وہ شیطان نہیں کوئی اور بھی شیطان ہے؟


نوجوان: ہاں یہ کام میرا ہے۔


دوسرا آدمی: تم کون ہو؟


نوجوان: میں اسی شیطان کا بیٹا ہوں۔ وہ میرے والد ہیں۔







 












 

Post a Comment

Thank you for your comment

Previous Post Next Post