رات کے تقریباً دو بج رہے تھے ٹرین سنسنان اور ویران علاقے میں تاریکی اور سناٹے کو چیرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ چند لمحے پہلے تک وہ ٹرین کے کمپارٹمنٹ میں تنہا بیٹھا کسی رسالے کی ورق گردانی کر رہا تھا مگر خاموشی میں ریل کی چھک پھک چھک پھک کرتی آواز کے ردھم نے اس پر غنودگی سی طاری کر دی تھی اور اب اسے اونگھ سی آنے لگی تھی۔ اس نے جلدی سے اپنے سر کو جھٹکا دیا تاکہ نیند اس پر غلبہ نہ پا لے کیونکہ اس کا اسٹیشن بالکل قریب تھا۔ کچھ ہی دیر بعد گاڑی پلیٹ فارم پر آ لگی۔ اس نے اپنا مختصر سا سامان اٹھایا اور باہر آ کر ایک طرف چلنے لگا۔ اس کا رخ اس دفتر کی جانب تھا جہاں سے ٹرین کی آمد اور ٹکٹ وغیرہ کی معلومات حاصل کی جاتی تھیں۔ پورا پلیٹ فارم اندھیرے میں ڈوبا تھا محض برآمدے میں جہاں انتظار گاہ تھی وہاں ایک مریل سا بلب روشن تھا جو تاریکی کے اتنے بڑے دیو کے خلاف مزاحم تھا۔ بلب کے عین نیچے دو تین بنچ رکھے تھے جو اس وقت بالکل خالی تھے۔ پلیٹ فارم پر اس آدمی کے سوا ایک دو مسافر اور تھے جو ٹرین سے اتر کر مرکزی دروازے سے باہر نکل رہے تھے۔ جب وہ دفتر کے قریب پہنچا تو اسے لگا دفتر شاید بند ہے مگر جب وہ کھڑکی کے پاس آیا اور اس نے اندر جھانک کر دیکھا تو اسے ایک آدمی نظر آیا جو اپنے سامنے والے کاؤنٹر پر سر رکھے سو رہا تھا۔ اس نے کھڑکی کو ہلکا سا بجایا مگر وہ آدمی غالباً گہری نیند میں تھا۔ اس بار اس نے کھڑکی کو قدرے زور سے اپنی انگلیوں کی پشت سے بجایا۔ وہ آدمی ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔ 'جی کیا کام ہے؟'
کیا آپ بتا سکتے ہیں ریلوے کوارٹر کس طرف ہیں مجھے ظہیر صاحب سے ملنا ہے.'
اس آدمی نے ایک بڑی سی جمائی لے کر کہا۔ 'یہاں سے آپ باہر نکلیں تو دائیں طرف چلتے جائیں اگر تو آپ کو رکشہ وغیرہ کچھ مل گیا تو آپ کی قسمت نہیں تو پندرہ بیس منٹ پیدل چلنا پڑے گا۔'
اس نے شکریہ ادا کیا اور باہر نکل آیا۔ دائیں جانب چند قدم چلنے کے بعد اسے ایک چھوٹا سا ڈھابہ نظر آیا جس کے دوسری طرف ایک سگریٹ کا کھوکھا تھا۔ اس نے پتلون کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور سگریٹ کا پیکٹ باہر نکال کر دیکھا جس میں صرف ایک سگریٹ بچا تھا۔ اس نے دوسری جیب سے لائیٹر نکالا اور سگریٹ سلگا کر پیکٹ پھینک دیا۔ کھوکھے کے پاس جا کر اس نے گولڈ لیف کا ایک پیکٹ مانگا اور دکاندار سے پوچھا۔ 'کیا آپ بتا سکتے ہیں ظہیر صاحب کا کوارٹر کس طرف ہے؟'
کون ظہیر صاحب؟'
وہ جو ریلوے میں ملازم ہیں اور اس ریلوے اسٹیشن کا انتظام وہی سنبھالتے ہیں۔'
معلوم نہیں صاحبو۔ یہ سامنے سے پتہ کر لو۔' دکاندار نے سامنے ڈھابے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔
اس نے سگریٹ کا پیکٹ لے کر پیسے ادا کیے اور ڈھابے کی طرف قدم بڑھایا مگر پھر رک گیا اور دکاندار سے دوبارہ مخاطب ہوا۔
اچھا کیا یہاں کوئی ہوٹل وغیرہ ملے گا ادھر نزدیک ہی آس پاس رات گزارنے کے لیے؟'
ہاں جی۔' دکاندار نے آگے جھک کر سر باہر نکالا اور کاؤنٹر سے باہر جھانک کر ایک طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔ 'وہ وہاں نیلے رنگ کا بورڈ نظر آرہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہوٹل ہے آپ کو رات گزارنے کے لیے وہاں اچھا کمرہ مل جاۓ گا۔'
ٹھیک ہے شکریہ۔' شکریہ ادا کرکے وہ آگے بڑھا اور ہوٹل کی جانب چل دیا۔
جب وہ ہوٹل میں داخل ہوا تو اسے گرمی کا احساس ہوا کیونکہ باہر موسم خوشگوار تھا مگر ہوٹل کے اندر حبس تھی۔ سامنے استقبالیہ پر دو آدمی بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ اس نے کمرے کی بابت پوچھا اور کمرے اور کراۓ کے متعلق ضروری معلومات حاصل کرکے اور اپنا نام، فون نمبر وغیرہ لکھوا کر اور چابی لے کر وہ اوپر چلا آیا۔ ایک لڑکا اس کے ساتھ اوپر تک آیا اور کمرے کی نشاندہی کرکے واپس لوٹ گیا۔ کمرے میں پہنچ کر اس نے جلدی سے اپنا موبائل چارجنگ پر لگایا جو بیٹری گرنے کی وجہ سے مکمل طور پر بند ہو چکا تھا۔ اس کے بعد اس نے کھڑکی کھولی جس سے کمرے کے اندر کا حبس ختم ہو گیا۔ کھڑکی سے باہر اک نظر جھانک کر وہ واپس پلٹا اور بستر پر ڈھیر ہو گیا۔ گرمیوں کے آخری دن تھے اور سرما کی آمد آمد تھی اس لیے رات کے وقت پنکھا چلانے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ وہ بہت تھک چکا تھا اور اسے بہت سخت نیند آرہی تھی اس لیے وہ بستر پر گرتے ہی گہری نیند سو گیا۔
صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو دن کافی نکل آیا تھا۔ دھوپ کھڑکی کے راستے اس کے بستر تک پہنچ گئی تھی۔ اس نے جلدی سے موبائل آن کیا۔ آن کرتے ہی اسے یکایک کالز اور میسجز کے نوٹفیکیشن آنا شروع ہو گۓ۔ اس نے جلدی سے ظہیر صاحب کو کال ملائی اور ان سے کہا کہ وہ رات کو کافی دیر سے پہنچا تھا اور اس کا موبائل بھی بند ہو گیا تھا اس لیے وہ رات ہوٹل میں ہی رک گیا۔ ظہیر صاحب سے ملنے کا وقت اور جگہ طے کرکے اس نے چند دیگر پیغامات جو اسے موصول ہوۓ تھے وہ دیکھے اور موبائل میز پر رکھ کر دوبارہ کچھ دیر سستانے کے لیے لیٹ گیا۔ سامنے والی دیوار پر ایل سی ڈی لگی تھی جس کا ریموٹ اس کے بستر کے ساتھ والے میز پر پڑا تھا۔ اس نے ریموٹ اٹھایا اور ٹی وی آن کر کے دیکھنے لگا۔ کچھ دیر ادھر ادھر چینل گھمانے کے بعد اس نے ٹی وی بند کر دیا اور بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔ نہا کر اس نے اپنا لباس تبدیل کیا اور کمرے سے باہر آگیا۔ نیچے آکر اس نے چابی واپس لوٹائی اور بل ادا کرکے ہوٹل سے نکل کر سیدھا ریلوے اسٹیشن کا رخ کیا۔ ہوا چل رہی تھی مگر دھوپ میں چلنے کی وجہ سے اسے پسینہ آگیا۔ اسٹیشن پہنچ کر اس نے ظہیر صاحب کے دفتر کی جانب قدم بڑھاۓ۔ جب وہ دفتر میں داخل ہوا تو ظہیر صاحب اپنی کرسی پر براجمان تھے اور ان کے سامنے میز کے دوسری طرف انہی کی عمر کے برابر ایک اور آدمی بیٹھا تھا۔ ظہیر صاحب سے بغلگیر ہونے اور اس آدمی سے مصافحہ کرنے کے بعد وہ بھی ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ پھر ظہیر صاحب نے اس دوسرے آدمی سے اس کا تعارف کرواتے ہوۓ کہا۔ 'آپ ان کو پہچانتے ہیں؟ یہ ذیشان صاحب ہیں بہت عمدہ ناول نگار ہیں۔ ان کے پچھلے ناول کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی تھی اور آج کل یہ ایک نیا ناول لکھ رہے ہیں۔ اسی ناول کے سلسلے میں کسی کام سے یہ یہاں حاضر ہوۓ ہیں۔'
جی میں جانتا ہوں۔' اس آدمی نے کہا پھر وہ ذیشان سے مخاطب ہوا۔ 'معاف کیجیے گا ذیشان صاحب! میں فکشن بہت کم پڑھتا ہوں مگر میں نے آپ کا نام بہت سنا ہے۔ لیکن ایک بات سے میں خیران ہوں آپ کو اپنے ناول کے لیے اس جگہ پر کیا کام پڑ گیا؟'
وہ مسکرایا پھر کچھ توقف کے بعد بولا۔ 'بات دراصل یہ ہے کہ میرے ناول کی کہانی اسی طرح کے ایک چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن کے گرد گھومتی ہے اور تمام کردار بھی اسی جگہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے میں چاہتا ہوں میں یہاں کچھ دن رہ کر یہاں کی زندگی اور ماحول کا اور یہاں پر آنے جانے والے مسافروں اور دوسرے لوگوں کا قریب سے مشاہدہ کر سکوں۔ یہ بات آپ کو شاید عجیب لگے مگر۔۔۔!'
آپ کی یہ بات درست ہو گی۔' ظہیر صاحب نے کہا۔ 'مگر آج کل تو بہت سے لوگ انٹرنیٹ، میڈیا اور سوشل میڈیا سے معلومات و مواد وغیرہ حاصل کر لیتے ہیں یا اخبار کی سرخیوں میں کچھ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہت سے لکھنے والوں کا ماننا ہے کہ آج کل سب کچھ انہیں اپنے ڈرائینگ روم اور اسٹڈی روم میں بیٹھے بیٹھے ہی مل جاتا ہے۔'
جی ہاں بہت سے لوگ ایسا سمجھتے ہیں مگر میں ان میں سے نہیں ہوں۔ مجھے تو اپنی کہانیاں اور کردار حتیٰ کہ بعض اوقات موضوعات بھی روزمرہ کی چلتی پھرتی، جیتی جاگتی اور سانس لیتی زندگی سے ہی ملتے ہیں۔ میں انہی سے کچھ اخذ کرکے کہانی کہتا ہوں۔'
میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔' دوسرے آدمی نے کہا۔ 'یہ طریقہ زیادہ بہتر ہے بہ نسبت دوسرے طریقے کے۔'
تو پھر بتائیے ہم آپ کی کیا خدمت کرسکتے ہیں؟' ظہیر صاحب نے پوچھا۔
بس مجھے یہیں ریلوے اسٹیشن میں ایک کمرہ دے دیجیے جہاں میں چند دن رہ سکوں۔'
کوئی مسئلہ نہیں آپ کو کمرہ مل جاۓ گا آپ جتنے دن چاہے رہ سکتے ہیں۔ اور اگر آپ کو اور کسی چیز کی ضرورت پیش آۓ تو آپ بلاجھجک مجھ سے مانگ سکتے ہیں۔' ظہیر صاحب نے کہا۔
جی بہت شکریہ فی الحال تو اور کسی چیز کی ضرورت نہیں۔'
چلیں کمرہ تو آپ کو مل جاۓ گا پر ابھی ناشتے کا وقت ہے تو کیا خیال ہے ناشتہ کیا جاۓ؟' ظہیر صاحب نے کہا۔
جی بہت شکریہ پہلے کمرہ مل جاۓ تو میں اپنا سامان وغیرہ رکھ دوں تو۔۔۔'
سامان آپ کا کہیں نہیں جا رہا میں ملازم کو کہہ دیتا ہوں وہ آپ کا سامان اٹھا کر کمرے میں رکھ دے گا۔ آج کے دن آپ ہمیں مہمان نوازی کا موقع دیں۔' ظہیر صاحب نے کہا اور اٹھ کھڑے ہوۓ۔ پھر انہوں نے ملازم کو بلایا اور اسے ساری بات سمجھا کر تینوں باہر نکل گۓ۔ گاڑی میں بیٹھ کر تقریباً پانچ سات منٹ کی مسافت پر وہ ایک ناشتہ سنٹر کے سامنے جا کھڑے ہوۓ۔ ذیشان نے اسٹیشن کے پاس جو ریستوران اور ڈھابے دیکھے تھے وہ کچھ زیادہ اچھے دکھائی نہیں دیتے تھے مگر یہ ناشتہ سنٹر جس کے سامنے وہ ابھی کھڑے تھے باہر سے اک نظر دیکھنے سے ہی معیاری نظر آتا تھا۔ ریسٹورنٹ میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے ایک اچھی سی جگہ کا انتخاب کیا اور پھر کھانے کا آرڈر دے کر باتوں میں مشغول ہو گۓ۔
ظہیر صاحب آپ نے ان کے بارے میں کچھ بتایا نہیں؟' ذیشان نے اس دوسرے آدمی کے بارے میں پوچھا۔
یہ ادریس صاحب ہیں میرے کولیگ ہیں اور بہت اچھے دوست بھی ہیں۔ اسی محکمے میں بڑے اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔'
ریستوران اندر سے بھی قدرے بہتر تھا۔ صفائی ستھرائی کا مناسب انتظام تھا اور تمام میز کرسیاں بڑے قرینے سے رکھے تھے۔ دیواروں پر لگتا تھا ابھی ابھی تازہ رنگ کیا گیا ہے۔ ایک جگہ پر بڑا سا پردہ لٹکایا گیا تھا جس کے ساتھ والی دیوار پر ایک پرچی چسپاں تھی جس پر لکھا تھا 'صرف فیملی کے لیے'۔ داخلے کے بالکل ساتھ ہی استقبالیہ تھا جہاں پر ایک نوجوان خوبصورت پتلون قمیض میں ملبوس بیٹھا تھا جو غالباً کیشیئر کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔
اچھا ذیشان صاحب یہ تو بتائیں آپ اس کے علاوہ کوئی اور کام بھی کرتے ہیں یا اسی سے آپ کا اچھا گزارا ہو جاتا ہے؟' ادریس صاحب نے پوچھا۔
نہیں اس سے تو گزارا کرنا بالکل بھی ممکن نہیں۔' ذیشان نے پہلو بدلتے ہوۓ کہا۔ 'یہ تو میں بس اپنے ذوق کے لیے کرتا ہوں۔ بچپن سے کہانیاں، کتابیں وغیرہ لکھنے کا شوق تھا تو اسی شوق کی خاطر۔۔۔ آپ اسے میرا مشغلہ کہہ لیں۔ جبکہ میرا ذریعہ آمدن تو کچھ اور ہے۔ پہلے میں ایک جگہ ملازمت کرتا تھا اور اب میں نے پچھلے کچھ عرصے سے اپنا ایک چھوٹا سا کام شروع کر لیا ہے بس اسی سے گزر بسر ہوتی ہے۔'
ادریس صاحب کو یہ بھی تو بتائیں کہ آپ بیرونِ ملک مقیم ہیں اور وہیں پر کام کرتے ہیں۔' ظہیر صاحب نے کہا۔
جی۔ میں ملک سے باہر پہلے ملازمت کرتا تھا پھر میں اس قابل ہو گیا کہ وہیں پر اپنا ایک چھوٹا سا سیٹ اپ بنا لیا۔ بس اسی سے دال روٹی چلتی ہے۔'
یہ تو بہت اچھی بات ہے۔' ادریس صاحب نے کہا۔
ناشتہ کرنے اور چاۓ پینے کے بعد وہ اٹھ کھڑے ہوۓ اور بل ادا کر کے واپس اسٹیشن چلے آۓ۔ ذیشان کچھ دیر ان کے پاس ٹھہرنے کے بعد اپنے کمرے میں آگیا۔ بہت چھوٹا سا کمرا تھا مگر صاف ستھرا تھا۔ اندر غسل خانہ بھی تھا جس کے مخالف سمت کھڑکی کے پاس ایک چھوٹا سا بستر لگا تھا۔ کمرے میں داخل ہونے کے لیے لکڑی کے دو دروازے ایک ساتھ لگے تھے۔ ایک دروازہ آگے تھا جس کے پیچھے جالی دار دروازہ تھا۔ آگے کا دروازہ کھول دینے سے جالی دار دروازے سے باہر کا منظر صاف دکھائی دیتا تھا جہاں سے اس وقت ٹھنڈی ہوا اندر آ رہی تھی۔ یہ کمرا شاید پہلے دفتری استعمال میں تھا مگر بعد میں اسے عملے میں سے کسی کو رہنے کے لیے دے دیا گیا تھا جو ان دنوں کسی وجہ سے خالی تھا۔ اسی لیے اسے یہاں ٹھہرایا گیا تھا۔ کمرے میں آنے کے بعد اس نے سب سے پہلے اپنے سامان کو مناسب جگہ پر رکھا جو ملازم بستر پر رکھ گیا تھا۔ اس کے بعد وہ غسل خانے میں گھس گیا اور باہر نکلنے کے بعد اس نے اپنے جوتے اتارے اور کھڑکی کی طرف بڑھا۔ کھڑکی کے نیچے ایک میز اور کرسی پڑی تھی، اس نے کھڑکی کھولی اور کرسی پر بیٹھ کر لکھنے کی تیاری کرنے لگا مگر شب بھر کے جگراتے، سفر کی تھکاوٹ اور نئ جگہ سے غیر مانوسیت اور اجنبیت کے سبب ابھی اس کا ذہن لکھنے کے لیے تیار نہیں ہوا تھا اس لیے کوشش کے باوجود وہ بمشکل دو تین سطریں ہی لکھ پایا اور اٹھ کر بستر پر آکر لیٹ گیا۔ کچھ پل یونہی گزر گۓ پھر اس نے کتاب اٹھائی اور پڑھنے لگا۔ تین چار صفحے پڑھنے کے بعد اسے نیند آگئ۔
ریل گاڑی کی زوردار سیٹی کی آواز سے اس کی آنکھ کھل گئ اس نے اٹھ کر وقت دیکھا تو دن کافی بیت چکا تھا۔ وہ اٹھا اور منہ ہاتھ دھو کر سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا اور کمرے سے باہر کھڑے ہو کر سگریٹ پینے لگا۔ اس کا کمرہ پلیٹ فارم کے رش والے حصے سے ذرا ہٹ کر تھا جہاں صرف عملے کے لوگ کبھی کبھار کسی کام سے آیا کرتے تھے ورنہ عموماً یہ حصہ ویران اور خاموش پڑا رہتا تھا۔ لیکن جہاں وہ کھڑا تھا وہاں سے پلیٹ فارم صاف اور واضح طور پر دکھائی دیتا تھا۔ اس نے سگریٹ کا کش لگا کر پلیٹ فارم پر نگاہ ڈالی۔ حسبِ معمول بس چند مسافر ٹرین کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن تھا بھیڑ بھاڑ کسی کسی وقت ہی ہوتی تھی اس لیے یہاں قلی وغیرہ بھی دکھائی نہیں دیتے تھے۔ اس نے کمرے کو باہر سے بند کیا اور سگریٹ پیتا ہوا پلیٹ فارم پر چلا آیا۔ وہ ظہیر صاحب کے دفتر پہنچا مگر دفتر بند تھا غالباً ظہیر صاحب جا چکے تھے۔ وہ واپس پلٹنے والا تھا جب ان کا ملازم وہاں پہنچ گیا اور اس نے اسے بتایا کہ 'ظہیر صاحب آپ کا پوچھ رہے تھے، میں آپ کو کمرے میں دیکھ کر بھی آیا تھا پر آپ سو رہے تھے انہوں نے کہا ہے کہ اگر آپ کو کوئی ضرورت پڑے تو مجھے فون کر لینا۔' ملازم چلا گیا تو پلیٹ فارم پر جہاں ایک مسافر بڑی دیر سے بیٹھا ٹرین کا انتظار کر رہا تھا وہ اس کے پاس کچھ فاصلے پر خالی بینچ پر بیٹھ گیا۔ سورج ریلوے اسٹیشن کی عمارت کے باہر درختوں اور دور پہاڑیوں کے عقب میں روپوش ہو چکا تھا اور اندر پلیٹ فارم آہستہ آہستہ اندھیرے میں ڈوب رہا تھا۔ جہاں وہ بیٹھا تھا وہاں پر بلب ابھی روشن نہیں کیے گۓ تھے مگر کچھ دور چاۓ والے نے اپنی دکان پر بتی جلا دی تھی جس سے اس کا چہرہ صاف طور پر دکھائی دینے لگا تھا۔ اس کے چہرے پر عجیب سی ہنسی پھیلی تھی اسے لگا شاید وہ آدمی کچھ سوچ کر مسکرا رہا ہے مگر تھوڑی دیر غور کرنے پر اسے معلوم ہوا وہ بالکل بھی ہنس نہیں رہا تھا بلکہ اس کے چہرے کے نقش اور خدوخال ہی کچھ اس طرح کے تھے یوں ہی لگتا تھا کہ وہ ہر وقت ہنستا رہتا ہے۔ اگر وہ آدمی مکمل طور پر سنجیدہ ہو تو چہرے سے یونہی لگتا تھا کہ وہ ہنس رہا ہے۔ وہ سوچنے لگا جب یہ آدمی کسی مرگ وغیرہ پر جاتا ہو گا تو دوسروں کو کیسا محسوس ہوتا ہوگا۔ یہ سوچ کر اسے ہنسی آگئ۔ اس کے ساتھ والے بینچ پر جو آدمی بیٹھا گاڑی کا انتظار کر رہا تھا اس نے اپنی گود میں بیگ اٹھا رکھا تھا اور وہ اپنی ایک ٹانگ کو مسلسل ہلاتا چلا جا رہا تھا۔ اس کا موبائل فون اس کی جیب میں بجنے لگا تھا مگر اسے شاید گھنٹی سناۓ نہیں دے رہی تھی۔
بھائی جی آپ کا فون بج رہا ہے'۔
جی۔۔۔' وہ آدمی ہلکا سا چونکا۔ 'جی۔۔۔ہاں۔۔۔وہ فون۔۔۔'
اس نے ہلکی سی بوکھلاہٹ کے ساتھ جیب سے فون نکالا اور کال سننے لگا۔
جی۔۔۔نہیں ابھی تو ٹرین کا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔ ہاں پہنچ جاؤں گا۔۔۔ہاں۔'
اس نے کال بند کر دی اور موبائل دوبارہ جیب میں رکھ کر پھر سے واپس اپنی پرانی حالت پر چلا گیا۔ اس کی ٹانگ کی حرکت جو فون سنتے ہوۓ رک گئ تھی دوبارہ اسی طرح حرکت کرنے لگی۔ اس نے اس عجیب و غریب آدمی کو دیکھتے ہوۓ اس سے پوچھا۔ 'آپ ٹرین میں پہلی بار سفر کر رہے ہیں؟'
جی۔۔۔؟' وہ اس بار بھی ہلکا سا چونکا۔ 'جی نہیں میں روز ٹرین سے سفر کرتا ہوں۔'
روز۔۔۔؟' اس نے خیرت سے پوچھا۔ 'روز اسی وقت؟'
جی۔ اسی وقت'۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور پوچھتا ٹرین کی سیٹی کی آواز آئی اور وہ آدمی اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ گاڑی ابھی کچھ دور تھی مگر وہ ابھی سے چل کر پٹری کے پاس جا کر کھڑا ہو کر انتظار کرنے لگا۔جب ٹرین آکر پلیٹ فارم پر رکی تو کچھ مسافر گاڑی سے اترے اور چند ایک مسافر سوار ہو گۓ مگر وہ اسی جگہ بلکل ساکت کھڑا رہا۔ وہ اس طرح کھڑا تھا جیسے اسے اردگرد کا بالکل بھی ہوش نہیں۔ جب گاڑی نے روانگی کے لیے سیٹی بجائی اور وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگی تو وہ آدمی اپنی جگہ سے ہلا اور بھاگ کر گاڑی میں سوار ہو گیا۔ وہ اس آدمی کی اس عجیب و غریب حرکت کو دیکھ کر بہت خیران ہوا۔ جب گاڑی چلی گئ تو وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ پہلے اس نے سوچا کمرے میں چلا جاۓ مگر پھر اس نے دوبارہ اس چاۓ والے آدمی کی طرف دیکھا تو اس کی کینٹین کی جانب بڑھا۔ کوئی اور دن ہوتا تو وہ شاید اس کی طرف زیادہ دھیان نہ کرتا مگر اب چونکہ وہ یہاں آیا ہی اپنی کہانی کے لیے تھا اس لیے اسے لگا وہ آدمی اس کی کہانی کے لیے ایک دلچسپ کردار ہو سکتا ہے۔
ایک کپ چاۓ۔' کینٹین پر پہنچ کر اس نے انگلی کے اشارے سے کہا اور خود ایک بنچ پر بیٹھ کر سگریٹ پینے لگا۔ چاۓ والا اس وقت دکان پر بالکل اکیلا تھااس نے کوئی بات چھیڑنے کی غرض اس سے یونہی پوچھا۔ 'تم یہیں نزدیک ہی رہتے ہو؟'
نہیں بھائی جی۔ میرا گھر یہاں سے کچھ دور ہے۔ یہاں بس اس دکان کے لیے آتا ہوں۔'
کتنا عرصہ ہو گیا تمہیں یہ کام کرتے ہوۓ؟'
پچیس تیس سال ہو گۓ ہیں مجھے یہی کام کرتے ہوۓ۔' چاۓ والا نے فخر سے کہا۔
تیس برس۔۔۔خوب' اس نے سر ہلاتے ہوۓ کہا۔
آپ محکمے میں نۓ آۓ ہیں؟' اس بار چاۓ والے نے پوچھا۔
نہیں میں یہاں کسی کام سے آیا ہوں بس چند دن رہ کر واپس چلا جاؤں گا۔'
ظہیر صاحب کے مہمان ہیں؟'
ہاں۔'
ظہیر صاحب بہت اچھے آدمی ہیں پتہ نہیں اوپر والا ایسے اچھے لوگوں کو کیوں دکھ دیتا ہے۔'
دکھ۔۔؟ کیسا دکھ؟' اس نے خیریت سے پوچھا۔
آپ کو معلوم نہیں؟' چاۓ والے نے اس کی طرف دیکھ کر خیرت سے کہا۔
نہیں۔ کیا ہوا ان کے ساتھ؟'
بس کیا بتاؤں جناب ان کی جوان بیٹی تھی پچھلے دنوں اچانک چلی بس۔'
اوہ۔ وہ کیسے؟'
معلوم نہیں۔ کچھ پتہ نہیں اس کے ساتھ کیا ہوا۔'
چاۓ والے نے چاۓ کپ میں ڈال کر اس کے سامنے میز پر رکھ دی اور پھر واپس اپنی جگہ پر جا کر کسی اور کام میں جت گیا۔ پھر دوبارہ بولا۔ 'بھائی جی یہ سب ربی کام ہیں۔ اس کے کام وہی جانے۔'
اس نے چاۓ والے کو غور سے دیکھا اس کے لہجے میں غم اور سنجیدگی کی جھلک تھی مگر اس کے چہرے پر ابھی بھی وہی ہنسی پھیلی ہوئی تھی۔ یہ ہنسی اس کی اپنی اختیار کردہ نہیں تھی نہ ہی اسے ہنسی کہا جا سکتا ہے بلکہ اس کے چہرے کی بناوٹ ایسی تھی یوں لگتا تھا وہ ہنس رہا ہے۔ اس کی باچھیں ہر وقت یوں کھلی رہتی تھیں جیسے کوئی بھی انسان ہنستے ہوۓ باچھیں پھیلاتا ہے۔
جتنی دیر تک وہ وہاں بیٹھا رہا چاۓ والے سے باتیں کرتا رہا پھر اٹھ کر کمرے میں چلا آیا۔ صبح بھاری بھرکم ناشتہ کرنے کی بدولت اسے ابھی تک بھوک نہیں لگی تھی۔ اس نے لکھنے کا ارادہ کیا اور میز پر بیٹھ کر لکھنا شروع کر دیا۔ مگر ابھی بھی اس کا وہی حال تھا، وہ بالکل بھی لکھ نہیں پا رہا تھا۔ دیر تک لکھنے کی کوشش کرنے کے باوجود وہ چند جملوں سے آگے نہ بڑھ پایا۔ ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کرے اس کے فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے دیکھا تو اس کے دوست کا فون تھا۔ اس نے کال اٹھائی تو اس کے دوست نے کہا۔ 'کیا حال ہے کیسا جا رہا ہے تمہارا دور دراز کے ریلوے اسٹیشن کا دورہ؟'
یار کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ پتہ نہیں میرا یہاں آنے کا فیصلہ درست تھا کہ نہیں۔'
کیوں کیا ہوا؟'
جب سے آیا ہوں ایک لفظ ٹھیک طرح سے لکھ نہیں پایا۔ میں نے سوچا تھا کہانی کی جس طرح کی سیٹنگ ہے اسی طرح کی جگہ اور ماحول کے قریب رہوں گا تو زیادہ بہتر لکھ پاؤں گا۔ مگر اب۔۔۔'
کوئی بات نہیں یارا ابھی تو ایک دن بھی پورا نہیں ہوا تمہیں وہاں گۓ ہوۓ، ایک دو دن صبر کرو ٹھیک ہو جاۓ گا۔'
مجھے تو یہ رائیٹرز بلاک قسم کی کوئی چیز لگتی ہے'۔
او نہیں یار ایسا نہیں ہے اور بالفرض اگر ایسا ہے بھی تو ایک دو دن انتظار تو کرو۔ تمہارے لیے بالکل نئی اور اجنبی جگہ ہے اس لیے ایسا ہو جاتا ہے۔' اس کے دوست نے اس کو تسلی دیتے ہوۓ کہا۔
کافی دیر تک وہ دوست سے باتیں کرتا رہا۔ پھر اس نے کہا۔ 'مجھے لگتا ہے مجھے ریلوے اسٹیشن سے باہر نکل کر بارونق حصے کی طرف ذرا چہل قدمی کرنی چاہیے جہاں اس وقت ہوٹل اور دکانیں وغیرہ کھلی ہیں اس سے شاید مجھے کوئی لکھنے کی تحریک ہو۔'
ہاں یہ ایک اچھا خیال ہے۔' اس کے دوست نے کہا۔
تو پھر ٹھیک ہے بعد میں بات کرتے ہیں ابھی میں جاتا ہوں۔'
اس نے فون بند کر دیا اور کمرے کو باہر سے تالا لگا کر ایک طرف چل پڑا۔ پلیٹ فارم پر پہنچ کر اس نے چاۓ کی دکان پر نظر ڈالی چاۓ والا دکان بند کرکے جا چکا تھا۔ پلیٹ فارم اس وقت مکمل طور پر خالی تھا۔ برآمدے میں وہی ٹمٹماتا بلب جل رہا تھا جو اس نے پچھلی رات ٹرین سے اتر کر دیکھا تھا۔ باہر نکلنے سے پہلے اس نے صغیر صاحب کے کمرے کی طرف نظر دوڑائی، اندر بتی جل رہی تھی اس نے سوچا شاید صغیر صاحب کسی کام سے آۓ ہوں اس نے دروازے سے جھانک کر اندر دیکھا۔ اندر ایک لڑکی کھڑی فائلوں کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔ وہ بہت خیران ہوا۔ اس نے انگلیوں سے دروازے پر ہلکی سی دستک دی اور کمرے کے اندر چلا آیا۔ لڑکی نے اس کی طرف دیکھا اور کہا۔ 'آپ۔۔۔؟'
جی میرا نام ذیشان ہے میں یہاں صغیر صاحب۔۔۔'
میں جانتی ہوں۔' لڑکی اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے بول پڑی۔ 'آپ ذیشان صاحب ہیں اپنے ناول کے سلسلے میں یہاں کچھ دن رہنے آۓ ہیں۔'
جی لیکن آپ۔۔۔؟'
میرا نام سارہ ہے میں صغیر صاحب کی بیٹی ہوں۔'
بیٹی! لیکن وہ تو۔۔۔'
جی ہاں وہ میری بڑی بہن تھی۔' لڑکی نے فوراً جواب دیا۔ 'اس کی موت کے بعد ابو کچھ بیمار اور تھکے تھکے سے رہنے لگے ہیں اس لیے میں کبھی کبھار ابو سے چھپ کر یہاں آجاتی ہوں اور ان کا جو کام رہتا ہے وہ کر دیتی ہوں۔'
تو انہیں اس بات کا پتہ نہیں چلتا؟'
اکثر تو نہیں چلتا کیونکہ میں ملازم کو کہہ دیتی ہوں کہ انہیں کچھ بھی مت بتانا اس لیے اگر کبھی انہیں شک ہو اور وہ کچھ پوچھیں تو ملازم کوئی بہانہ بنا دیتا ہے مگر پھر بھی کبھی کبھی انہیں پتہ چل جاتا ہے۔'
پھر آپ کو روکتے تو ضرور ہوں گے؟'
ہاں روکتے ہیں لیکن میں پھر بھی آجاتی ہوں۔ اس لیے کہ بہن کو کھو چکی ہوں اب ابو کو کھونا نہیں چاہتی۔' اس کے چہرے پر دکھ کے تاثرات ابھرے پھر غائب ہو گۓ۔
ذیشان نے کمرے میں نظر دوڑائی اور کہا۔ 'میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں؟'
لڑکی نے اس کی طرف دیکھا۔ اس سے پہلے وہ کچھ کہتی اس نے کہا۔ 'میرا مطلب ہے جو کام آپ کرنے آئی ہیں میں اس میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔'
نہیں اس کی ضرورت نہیں آپ کا شکریہ آپ بس ابو کو کچھ مت بتانا۔'
وہ تو ٹھیک ہے لیکن میں صغیر صاحب کی کوئی مدد کر سکوں تو مجھے بہت خوشی ہو گی۔ میری صغیر صاحب سے اور آپ کے گھر والوں سے دیرینہ شناسائی ہے اور پھر انہوں نے مجھے یہاں کمرہ دے کر میری مدد بھی کی ہے تو بدلے میں اگر میں ان کے کچھ کام آسکوں تو مجھے بہت اچھا لگے گا۔'
لیکن کیا آپ کو یہ کام آتا ہے؟' لڑکی نے پوچھا۔
آتا تو نہیں مگر کچھ تھوڑا بہت جو میں کر سکوں۔'
ٹھیک ہے پھر یہ پکڑیے اور اس کے حساب کتاب میں جو گڑبڑ ہے اور جو غلطیاں ہیں اس کو ٹھیک کر دیجیے۔' سارہ نے اسے ایک بڑا سا پرچہ تھماتے ہوۓ کہا۔
اس نے شکریہ کے ساتھ پرچہ لیا اور کھڑے کھڑے اس پر نگاہ ڈالی پھر وہ ایک طرف بیٹھ کر اسے ٹھیک کرنے لگا۔ جبکہ سارہ نے ایک طرف پڑے کاغذوں کا پلندہ اٹھایا اور اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی۔ چند لمحوں بعد اس نے نظر اٹھا کر سارہ کو دیکھا اسے اس کی آنکھوں میں کچھ عجیب سا نظر آیا۔ جب سے وہ کمرے میں داخل ہوا تھا اس نے کمرے کی فضا اور اس کی آنکھوں میں ایسا ہی عجیب پن محسوس کیا تھا مگر وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ یہ کیا ہے۔ آخر کچھ تو ایسا تھا جو اس لڑکی میں الگ تھا۔ کچھ ایسا جو عمومیت سے بالکل ہٹ کر تھا۔ وہ لڑکی یقیناً خوبصورت تھی مگر اس طرح کی بہت سی خوبصورت لڑکیاں اس نے دیکھی تھیں۔ اس کے خدوخال بھی نارمل حسین لڑکیوں جیسے ہی تھے مگر پھر بھی اس میں کچھ انوکھی بات ضرور تھی جس نے اسے تجسس میں مبتلا کر دیا تھا۔
ایک بات پوچھ سکتا ہوں؟'
لڑکی نے اس کی طرف دیکھا پھر کہا۔ 'جی پوچھیے؟'
مجھے شاید اتنی ذاتی نوعیت کی بات پوچھنے کا حق تو نہیں مگر پھر بھی کیا آپ بتائیں گی آپ کی بہن کی موت کیسے ہوئی تھی؟'
لڑکی مسکرائی پھر بولی۔ 'میں جانتی تھی آپ یہ بات ضرور پوچھیں گے۔ مگر میں آپ کو اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتی۔ اس دنیا میں شائد کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں ذیشان صاحب جس کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔ ہم لاکھ جاننے کی کوشش کریں مگر جواب جاننے سے قاصر رہتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے ذیشان صاحب قدرت بہت سی باتیں ہم سے پوشیدہ رکھنا ہی پسند کرتی ہے۔'
یہ بھی تو ہو سکتا ہے قدرت کا ایسا کوئی ارادہ نہ ہو بس ہم ہی کسی وجہ سے جان نہ پا رہے ہوں۔'
یہ بھی ممکن ہے۔'
دونوں کچھ دیر تک کام کرتے رہے اور جب کافی دیر ہو گئ تو سارہ نے کہا۔ 'میرا خیال ہے اب چلنا چاہیے بہت دیر ہو گئ ہے۔'
جیسے آپ کی مرضی۔' ذیشان نے اٹھتے ہوۓ کہا۔ 'لیکن آپ جائیں گی کیسے اس وقت اکیلے جانا مناسب ہوگا؟'
میرے پاس اپنی گاڑی ہے اور ابھی تو اتنی رات بھی نہیں ہوئی باہر نکل کر دیکھیں سارا شہر ابھی جاگ رہا ہے۔'
وہی تو میں سوچ رہا تھا اتنا وقت بھی نہیں ہوا پھر یہ پلیٹ فارم کیوں خالی پڑا ہے۔' اس نے خیرت کا اظہار کرتے ہوۓ کہا۔
وہ اس لیے کہ یہاں ٹرینیں بس کسی خاص خاص وقت پر رکتی ہیں اس لیے انہی مخصوص اوقات میں رش دکھائی دیتا ہے۔'
ہاں شاید اسی لیے۔۔۔ تو چلیں پھر؟'
نہیں آپ جائیں میں کمرے کو بند کرکے چلی جاؤں گی۔'
لڑکی نے اس سے کہا تو وہ سلام دعا کے بعد باہر نکل آیا۔ جب وہ کمرے سے باہر نکلا تو اسے عجیب سا احساس ہوا اسے لگا وہ کسی الگ ہی دنیا سے نکل کر آیا ہے۔ اسے بھوک لگ رہی تھی اس لیے وہ ریلوے اسٹیشن سے نکل کر اس جانب چل دیا جہاں ریستوران اور ڈھابوں وغیرہ کی قطار تھی۔
کھانا کھا کر اور تھوڑی سی چہل قدمی کرکے وہ واپس کمرے کی طرف چل دیا۔ پلیٹ فارم پر پہنچ کر اس نے صغیر صاحب کے کمرے کی طرف دیکھا کمرہ بند تھا اور وہ لڑکی جا چکی تھی۔ مگر خیرت انگیز بات یہ تھی کہ جو پلیٹ فارم تھوڑی دیر پہلے تک مکمل طور پر سنسان پڑا تھا اب وہاں لوگوں کی کافی بھیڑ لگی تھی یہاں تک کہ چاۓ والا جو دکان بند کرکے جا چکا تھا وہ بھی اپنی جگہ پر موجود تھا اسے سارہ کی کہی ہوئی بات یاد آئی کہ یہاں مخصوص اوقات میں ہی ٹرینیں آتی ہیں اس لیے رش بھی اسی وقت ہوتا ہے۔ شاید چاۓ والا بھی کسی کام سے باہر گیا تھا۔ اس نے سوچا اور پھر لوگوں پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈال کر آگے بڑھ گیا۔ کمرے میں پہنچ کر اس نے بٹوہ اور موبائل وغیرہ ایک طرف رکھا اور میز پر بیٹھ گیا۔ اب اس کا ذہن لکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار تھا اور وہ اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔ اس نے لکھنا شروع کیا۔
'اس کی آنکھوں میں بلا کی کشش تھی۔ ایسی پرکشش آنکھوں والی لڑکی میں نے زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی مگر ساتھ ہی اس لڑکی اور اس کمرے کی فضا میں معلوم نہیں وہ عجیب اور انوکھے پن کا احساس کیا تھا جو کمرے سے باہر نکلتے ہی ختم ہو گیا تھا۔ وہاں کچھ تو ایسا الگ تھا جس کا ادراک و احساس مجھے پہلے کبھی نہیں ہوا۔'
رات کافی دیر تک وہ لکھتا رہا صبح اس کی آنکھ کھلی تو نو بج چکے تھے۔ وہ جلدی سے بستر سے اٹھا اور نہا دھو کر لباس تبدیل کرکے باہر آگیا۔ اس وقت پلیٹ فارم پر بہت رش تھا پورا ریلوے اسٹیشن لوگوں سے کھچا کھچ بھرا تھا۔ کچھ لوگ بنچوں پر بیٹھے گپیں لگا رہے تھے اور کچھ اپنے موبائل میں مگن تھے۔ جبکہ چند لوگ زمین پر چادر بچھا کر نیچے بیٹھے تھے۔ بہت سے لوگ دو دو تین تین کی ٹولیوں میں کھڑے گاڑی کا انتظار کر رہے تھے۔ ان سب میں کئ لوگ وہ تھے جو خود تو مسافر نہیں تھے مگر وہ یا تو کسی نہ کسی کو چھوڑنے آۓ تھے یا لینے آۓ تھے۔ ان کے بیچ میں خوانچہ فروش اور چھابڑی والے گھوم پھر کر اپنا سامان بیچ رہے تھے۔ اس وقت دو چار قلی بھی کہیں سے آدھمکے تھے، جونہی کوئی گاڑی پلیٹ فارم پر آ کر رکتی وہ فوراً بھاگ کر مسافر کے اترنے سے پہلے وہاں پہنچ جاتے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا کینٹین کی جانب چل دیا۔ وہاں بھی بہت سے لوگ بیٹھے چاۓ پی رہے تھے یا ناشتہ کر رہے تھے۔ کوئی جگہ خالی نہ پا کر وہ ایک طرف جا کر کھڑا ہو گیا۔ مگر خوش قسمتی سے ابھی اسے وہاں کھڑے ہوۓ صرف ایک آدھ منٹ گزرا تھا جب دو ایک لوگ چاۓ پی کر اٹھ کھڑے ہوۓ اور وہ وہاں جا کر بیٹھ گیا۔ اس نے چاۓ والے کی طرف دیکھا جو اپنی مخصوص ہنسی چہرے پر سجاۓ کام میں مصروف تھا۔ ابھی وہ اسی کو دیکھ رہا تھا جب ایک چھوٹا لڑکا جو اس چاۓ والے کی کینٹین میں کام کرتا تھا اس کے پاس آگیا۔ اس نے اسے چاۓ، ناشتے کا آرڈر دیا اور خود دوسری طرف جہاں لوگ کھڑے گاڑی کا انتظار کر رہے تھے اس طرف دیکھنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد ناشتہ آگیا اس نے سیر ہوکر ناشتہ کیا اور چاۓ پینے کے بعد سگریٹ سلگا لیا۔ ابھی اس نے سگریٹ کے چند کش ہی لگاۓ تھے کہ اچانک اسے بھیڑ میں وہی لڑکی دکھائی دی۔ اس نے سگریٹ ایک طرف پھینکا اور جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا جب وہ اس جگہ پر پہنچا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ اس نے ادھر ادھر اسے تلاش کیا مگر وہ اسے کہیں دکھائی نہ دی۔ اسے لگا شاید اس کا وہم تھا۔ کچھ دیر وہاں مٹرگشت کرنے کے بعد اس نے صغیر صاحب کے کمرے کا رخ کیا۔ وہ اس وقت کمرے میں اکیلے بیٹھے کوئی کام کر رہے تھے وہ کمرے میں داخل ہوا تو صغیر صاحب اس سے بڑی حندہ پیشانی سے ملے۔ اس نے باتوں باتوں میں ان سے ان کی بیٹی کی پراسرار موت کا ذکر چھیڑا مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے اور بات آگے بڑھتی چند لوگ اسی وقت کمرے میں داخل ہوۓ اور بات آئی گئی ہو گئی ہے۔ وہ تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھا پھر باہر نکل آیا۔ تمام دن اس نے پلیٹ فارم پر گزارا۔ جہاں خالی جگہ ملتی وہاں جا کر بیٹھ جاتا اور کبھی کسی جگہ جا کر کھڑا ہو جاتا۔ پچھلے پہر وہ اپنے کمرے میں چلا آیا۔ کچھ دیر سستانے کے بعد اس نے کتاب اٹھائی اور مطالعہ میں مصروف ہو گیا۔
کتاب کے مطالعے میں بہت دیر تک مگن رہنے کے بعد جب یکلخت فون کی گھنٹی بجی تو اس نے فون اٹھایا اور نہ جانے کتنی دیر تک فون پر بات کرتا رہا۔ جب اس نے کال بند کرکے کھڑکی سے باہر دیکھا تو اندھیرا کافی پھیل چکا تھا۔ وہ ٹھیک اسی وقت کمرے سے باہر نکل آیا جس وقت وہ پچھلی رات کو نکلا تھا۔ آج بھی اس وقت پلیٹ فارم مکمل طور پر خالی تھا۔ چاۓ والا بھی کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ پلیٹ فارم آج پہلے سے زیادہ تاریک دکھائی دے رہا ہے۔ صغیر صاحب کے کمرے کے پاس پہنچ کر اس نے دیکھا کمرے کی بتی جل رہی تھی۔ وہ اندر داخل ہوا سامنے وہی لڑکی بیٹھی تھی۔ جونہی وہ اندر پہنچا اسے بالکل اسی طرح کے عجیب و غریب احساس نے گھیر لیا جو اس نے پچھلی رات کو بھی محسوس کیا تھا۔ اسے لگا وہ ایک دنیا سے نکل کر کسی اور دنیا میں چلا آیا ہے۔ اس نے پیچھے مڑ کر دروازے سے باہر جھانک کر دیکھا وہاں سواۓ تاریکی کے اور کچھ نہیں تھا۔ اس کے بعد اس نے لڑکی کو غور سے دیکھا آج بھی اس کی آنکھوں میں وہی کشش تھی اور اسی طرح کا انوکھا اور اجنبی احساس جھلک رہا تھا۔
آپ'؟ اس لڑکی نے بولنے کے لیے لب ہلاۓ تو اسے لگا وہ کسی اور دنیا کی باسی ہے۔
جی میں یونہی یہاں سے گزر رہا تھا تو دیکھا بتی جل رہی ہے تو اندر چلا آیا۔ لیکن مجھے لگا نہیں تھا کہ آپ آج پھر آئیں گی۔' اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا۔
آنے کا کوئی ارادہ تو نہیں تھا مگر آج پھر اک بہانہ مل گیا تو چلی آئی۔' اس نے اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوۓ کہا۔ 'مجھے اصل میں اس جگہ پر آکر کام کرنا اچھا لگنے لگا ہے تو وقتاً فوقتاً چلی آتی ہوں۔ خیر، آپ بتائیں آپ کا دن کیسا گزرا آج، کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی؟'
اچھا گزر گیا ہے۔' وہ چند قدم چل کر کھڑکی سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔ 'پریشانی تو کوئی نہیں ہوئی لیکن جب سے میں یہاں آیا ہوں بہت سی باتیں ایسی ہوئی ہیں جس نے مجھے حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسی عجیب و غریب باتیں جن کو میں سمجھ نہیں پا رہا۔'
میں نے تو پہلے ہی کہا تھا بہت سی باتوں کو ہم سمجھ نہیں سکتے۔'
تو کیا انہیں سمجھنے یا جاننے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے؟'
معلوم نہیں۔' وہ چند قدم چل کر آگے بڑھی اور فضا میں کہیں دیکھتے ہوۓ بولی۔ 'شائد نہیں۔۔۔ یا شاید ہاں۔'
ذیشان نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ اندھیرا پہلے سے بہت بڑھ گیا تھا اور تیز آندھی کے جھکڑ چلنے لگے تھے۔
لگتا ہے طوفان آنے والا ہے۔'
آندھی اور طوفان تو آتے رہتے ہیں اور پھر آکر گزر جاتے ہیں۔' سارہ نے لاپرواہی سے کہا۔
مگر جاتے ہوۓ بہت کچھ تباہ و برباد بھی تو کر جاتے ہیں۔'
جی۔'
وہ جتنی دیر تک کمرے میں رہا اسے لگا وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے مگر جب وہ کمرے سے باہر نکلا اس نے فوراً گھڑی دیکھی تو ابھی اتنا وقت نہیں گزرا تھا۔ باہر آنے کے بعد آج بھی اسے بالکل وہی احساس ہوا تھا جو پچھلی رات کو اس نے محسوس کیا تھا۔ تھوڑی دیر ادھر ادھر کے چکر لگانے اور کھانا وغیرہ کھانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلا آیا۔ لکھنے کی میز پر بیٹھ کر کئ طرح کے خیال اس کے ذہن میں گھوم رہے تھے۔ اس نے ایک دروازہ کھول رکھا تھا اور جالی دار بند دروازے سے باہر دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر پہلے تک جو تیز آندھی کے جھکڑ چل رہے تھے وہ ختم ہو چکے تھے لیکن رات ویسی ہی سیاہ اور تاریک تھی۔ پھر اس نے لکھنا شروع کیا۔
'یہ کیسی دہشتناک اور عجیب و غریب رات ہے۔ ایسی عجیب جو شاید ہی کبھی کسی نے دیکھی ہو۔ یہاں کی ہر چیز ہی تو عجیب ہے۔ ایک آدمی جو ہر روز شام کو ایک ہی وقت میں ٹرین کا سفر کرتا ہے اور پھر گاڑی آنے سے کتنی دیر پہلے پٹری کے پاس جا کھڑا ہوتا ہے۔ لیکن جب گاڑی آتی ہے تو سوار ہونے کی بجاۓ اپنی جگہ پر کھڑا رہتا ہے اور ٹرین چلنے کے بعد بھاگ کر اس میں سوار ہوتا ہے۔ اور وہ چاۓ والا جس کے چہرے پر اور کوئی خاص بات نہیں مگر ایک ایسی ہنسی جو معلوم نہیں کیسے اس کے چہرے پر ہمیشہ کے لیے جم گئ ہے۔ یوں جیسے کسی نے ہنسی لا کر اس کے چہرے پر فٹ کر دی ہو۔ اور وہ لڑکی! جس کی آنکھوں سے لے کر باتوں تک بہت کچھ عجیب ہے۔ جب تک وہ یہاں موجود رہتی ہے اردگرد کی پوری فضا کس قدر الگ دکھائی دیتی ہے۔ اس کے آنے پر پورا پلیٹ فارم سنسان اور ویران ہو جاتا ہے اور ہر جگہ خاموشی چھا جاتی ہے لیکن اس کے جانے کے فوراً بعد دوبارہ سے بھیڑ لگ جاتی ہے۔ اور وہ لڑکی جو مر چکی ہے اور جس کا کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ وہ کیسے اور کیونکر مری۔۔۔ یہ کیسی خیرت انگیز دنیا ہے کیا واقعی بہت سی باتیں قدرت ہم سے پوشیدہ رکھنا چاہتی ہے؟'
جب وہ لکھتے لکھتے تھک چکا تو اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے پیچھے گردن پر ہاتھ رکھا اور سر کو ادھر ادھر گھمایا، پھر سگریٹ سلگا لیا۔ باہر تیز ہوا کے ساتھ ہلکی سی بارش ہونے لگی تھی۔ کتنی دیر تک وہ سگریٹ پیتے ہوۓ انہی باتوں پر غور کرتا رہا اور پھر جب نیند سے اس کی آنکھیں بوجھل ہونے لگیں تو وہ اٹھ کر اپنے بستر پر آ گیا۔
اگلا دن بھی اس نے پلیٹ فارم پر ہی گزارا۔ صغیر صاحب سے آج اس کی ملاقات ہوئی لیکن بہت تھوڑی دیر کے لیے کیونکہ آج وہ بہت مصروف تھے اس لیے وہ کچھ دیر ان کے پاس بیٹھ کر چلا آیا۔ پچھلے پہر جب چاۓ والے کے پاس رش بہت کم ہو گیا تو وہ اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ وہاں اس وقت بس ایک دو آدمی تھے۔ ایک چاۓ پیتے ہوۓ موبائل دیکھنے میں مگن تھا اور دوسرا سگریٹ پیتے ہوۓ اپنے ہی خیالوں میں کہیں کھویا تھا۔ اس کا سگریٹ پینے کا انداز بہت نرالا تھا۔ اس نے سگریٹ کو اپنی دو چھوٹی انگلیوں کے درمیان پھنسا رکھا تھا اور کش لیتے وقت اپنی مٹھی بند کرکے اوپر سے زور سے سانس اندر کھینچتا تھا۔ جب وہ راکھ کو جھاڑتا تھا تو ایک چٹکی سی بج اٹھتی تھی۔ چاۓ والا چولہے کے پاس کھڑا کوئی کام کر رہا تھا جبکہ وہ لڑکا جو اس نے کام کے لیے رکھا ہوا تھا وہ دکان سے کچھ فاصلے پر ایک ٹونٹی کے نیچے بیٹھا چاۓ کے برتن دھو رہا تھا۔ پچھلی رات کی بارش سے موسم یکسر تبدیل ہو گیا تھا اور چھاؤں میں اس وقت سردی محسوس ہونے لگی تھی لیکن شام کے ڈھلتے سورج کی دھوپ کی حدت ابھی کسی حد تک برقرار تھی اس لیے وہ اپنی کرسی گھسیٹ کر دھوپ میں لے آیا تھا۔ اس نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لگایا اور چاۓ والے سے پوچھا۔ 'ایک بات تو بتاؤ یار۔ تم رات ہوتے ہی دکان بند کرکے کیوں چلے جاتے ہو اور پھر کچھ دیر بعد دوبارہ واپس بھی آجاتے ہو؟'
کیا بتاؤں جناب پچھلے کچھ دنوں سے مجھے روز اس وقت کوئی نہ کوئی ضروری کام پڑ جاتا ہے اور مجھے دکان بند کرکے جانا پڑتا ہے۔ اس نالائق کے حوالے بھی دکان کرکے نہیں جا سکتا کیونکہ اس کو ابھی کچھ نہیں آتا۔' اس نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا جو برتن دھو رہا تھا۔
لیکن میں نے دیکھا ہے اس وقت پلیٹ فارم مکمل طور پر سنسان ہو جاتا ہے۔'
یہ تو پھر میرے نصیب اچھے ہیں جو اس وقت گاہک بھی کوئی نہیں ہوتا۔' اس نے گیس آن کی اور ماچس کی تیلی جلا کر چولہے کو سونگھائی جس سے چولہا بھک سے جل اٹھا۔ پھر اس نے کہا۔ 'بھائی جی اگر دکان پہ ٹھیک طرح سے ٹیم نہ دیں تو پکا گاہک بھی بھاگ جاتا ہے۔ کچے کی تو پھر بات ہی کیا۔ اس لیے میں دکان چھوڑ کر کہیں نہیں جاتا مگر پچھلے کچھ دنوں سے پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے کجھ سمجھ نہیں لگ رہی۔ روز مجھے ایک ہی وقت پر کوئی نہ کوئی کام پڑ جاتا ہے۔'
وہ غروبِ آفتاب کے بعد تک اس کے پاس بیٹھا رہا۔ جب اندھیرا پھیلنے لگا تو وہ اٹھ کر چلا آیا۔ پلیٹ فارم پر اسے وہی آدمی دکھائی دیا جو روزانہ گاڑی سے اسی وقت سفر کرتا تھا۔ ابھی بھی وہ اردگرد سے بے خبر بیٹھا ٹانگ ہلا رہا تھا۔ وہ اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ اس کے فون کی گھنٹی بجی جو اسے بالکل سنائی نہ دی۔ آج بھی اس کے آواز دینے پر وہ چونک اٹھا۔ اس نے کال اٹھائی اور اسی طرح کے دو تین جملے دہرانے کے بعد کال بند کر دی اور دوبارہ اپنی پرانی حالت میں لوٹ گیا۔ دور سے ٹرین کی سیٹی کی آواز سنائی دی تو وہ اٹھا اور پٹری کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ ٹرین آئی مسافر اترے، کچھ سوار ہوۓ مگر وہ اپنی جگہ پر ساکت رہا۔ اس کے آگے پیچھے اور اردگرد سے لوگ گزر رہے تھے مگر اس کو ان میں کوئی بھی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ بالکل اپنے سامنے پٹری کو دیکھ رہا تھا اور دیکھتا جا رہا تھا۔ گاڑی روانگی کے لیے تیار ہوئی مگر اس نے ابھی بھی کوئی حرکت نہ کی۔ ایک آدھ منٹ بعد گاڑی چل پڑی تو وہ اس کے پیچھے بھاگا اور بھاگ کر گاڑی کو پکڑ لیا۔ اس کے جانے کے بعد ذیشان کتنی دیر تک وہیں بیٹھا رہا پھر اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا آیا۔
رات کو اس کی سارہ سے پھر وہیں ملاقات ہوئی۔ اس کے آنے پر آج بھی سارا پلیٹ سنسان ہو گیا تھا اور ہر طرف تاریکی اور سکوت طاری تھا۔
آپ ایک بات بتائیں گی؟'
جی پوچھیں؟'
جب بھی آپ آتی ہیں یہ جگہ سنسان اور ویران کیوں ہو جاتی ہے؟'
وہ دھیرے سے ہنسی پھر اس نے کہا۔ 'آپ نے ایسا کیوں سوچا کہ جب میں آتی ہوں تب یہ جگہ سنسان ہو جاتی ہے۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے جس وقت یہ جگہ سنسان ہوتی ہے میں اسی وقت آتی ہوں۔'
ہاں۔ ایسا ہو تو سکتا ہے۔' اس نے کہا۔ 'مگر روز روز تو ایسا اتفاق نہیں ہوتا۔'
یہ بھی تو ہو سکتا ہے یہ آپ کا وہم ہو۔'
ایسے وہم بھی روز روز نہیں ہوتے۔'
ایسا کچھ نہیں ہے ذیشان صاحب۔' وہ کرسی سے اٹھی اور ایک طرف جا کر کھڑی ہو گئی۔ 'یہ صرف آپ کے ذہن کی فسوں کاری ہے۔ یہ محض فریبِ نظر ہے اور کچھ نہیں۔ انگریزی میں جسے الیوژن کہتے ہیں۔'
چلیں ایسا ہی سہی لیکن اس الیوژن کا کوئی سبب تو ہو گا۔ یہ ایک دن کی، ایک لمحے کی یا ایک مختصر وقت کی بات تو نہیں۔'
سبب جان کر آپ کیا کریں گے۔ بہت سی باتوں کے سبب نہیں ہوتے بس وہ ہو جاتی ہیں۔'
میں آپ کی بات سے اتفاق نہیں کرتا۔ مجھے تو لگتا ہے ہر بات کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے۔ چاہے ہم اس تک پہنچ پائیں یا نہیں، اسے جان پائیں یا نہیں۔'
تو ٹھیک ہے آپ اس کو اس طرح کہہ لیں، سبب ہوتا ضرور ہے مگر ہم میں اتنی سکت نہیں، اتنی قوت نہیں کہ ہم اس کو مکمل طور پر جان پائیں۔ تو پھر کیا اتنا مان لینا کافی نہیں کہ کوئی ہے جو کہتا ہے ہو جا تو وہ چیز ہو جاتی ہے۔'
ذیشان نے باہر دیکھا اسے ایسا لگا باہر تیز آندھی چل رہی ہے مگر بغیر کسی آواز کے۔۔۔ درخت وغیرہ بڑی تیز رفتاری سے جھول رہے تھے مگر ایک پتا تک کھڑکنے کی آواز نہیں آرہی تھی۔ ہوا بہت زوروں کی چل رہی تھی لیکن اس کا شور سنائی نہیں دے رہا تھا۔ اس نے کھڑکی کے قریب ہو کر آواز سننے کی کوشش کی مگر باہر مکمل سکوت تھا۔
لگتا ہے باہر طوفان ہے لیکن اس کی آواز کیوں نہیں آرہی ایسا خاموش طوفان میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔'
کبھی یوں بھی ہوتا ہے ذیشان صاحب۔طوفان ہماری زندگی میں خاموشی سے آتا ہے اتنا کہ ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ لیکن جب وہ گزر جاتا ہے تو ہمیں ادراک ہوتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ کیا کچھ لے گیا۔'
کچھ دیر تک وہاں رہنے کے بعد وہ باہر نکل آیا۔ اسے بالکل بھی معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کتنی دیر تک کمرے میں رہا کیونکہ اندر وہ وقت کا درست اندازہ نہیں لگا پاتا تھا۔ کبھی اسے لگتا وقت بہت تیزی سے بیت رہا ہے اور کبھی یوں محسوس ہوتا وقت یہاں موجود ہی نہیں۔
وہاں سے نکل کر وہ اپنے کمرے میں چلا آیا۔ رات کو دیر سے سونے کی وجہ سے صبح اس کی آنکھ بھی قدرے دیر سے کھلی۔ نہا دھو کر اس نے اپنا سامان باندھا کیونکہ رات کو ہی وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ وہ اب واپس لوٹ جاۓ گا۔ دن کے وقت صغیر صاحب کے کمرے میں بیٹھے ہوۓ اس نے ان کے پاس سارہ کی تصویر دیکھی۔ وہ ان سے ان کی بڑی بیٹی کی بابت کچھ پوچھنے چاہتا تھا مگر وہ خاموش رہا۔ انہیں یہ بتا کر کہ وہ آج رات واپس جا رہا ہے سلام دعا کرنے کے بعد وہاں سے چلا آیا۔ اس کا ارادہ سارہ سے آخری بار مل کر جانے کا تھا اس لیے اس نے رات تک کا انتظار کیا۔ رات سارہ کو اس نے بتایا کہ وہ جارہا ہے تو سارہ نے کہا۔
اتنی جلدی ابھی تو آپ کو بس چند دن ہی ہوۓ ہیں۔'
جی۔' اس نے کہا۔ 'مجھے لگتا ہے اپنے ناول کے لیے جو مواد درکار تھا وہ مجھے مل گیا ہے۔ میرا نہیں خیال اس سے زیادہ میں یہاں سے کچھ حاصل کر پاؤں گا۔ اور اس کے علاوہ میرا اپنا کام بھی ہے اس کا بھی حرج ہو رہا ہے۔'
چلیں جیسے آپ کی مرضی۔' اس نے اس سے نظریں ہٹائیں اور باہر دیکھنے لگی۔
اس نے اس کی آنکھوں اور چہرے کو غور سے دیکھا اسے لگا کہ وہ شاید نہیں چاہتی کہ وہ یہاں سے جاۓ۔ اس نے قدرے توقف کے بعد اس سے پوچھا۔
کیا آپ اب بھی کچھ نہیں بتائیں گی؟'
کیا؟' اس نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ 'کیا بتاؤں میں؟'
اپنے بارے میں اور اپنی بہن کے بارے میں۔۔۔ وہ بات جو صرف آپ جانتی ہیں۔'
میں کچھ نہیں جانتی۔' اس نے پھر سے نظریں پھیر لیں اور باہر ہوا سے جھولتی درختوں کی شاخوں کو دیکھنے لگی۔
تو پھر کم سے کم اپنا رابطہ نمبر ہی دے دیجئیے۔' قدرے توقف کے بعد اس نے کہا۔ 'تاکہ میں آپ سے رابطے میں رہوں اور مجھے آپ کے بارے میں کچھ تو معلوم ہو سکے۔'
یہ نہیں ہو سکتا ذیشان صاحب۔' اس نے ہنستے ہوۓ کہا۔
اس کی ہنسی میں غم اور دکھ کی ایسی جھلک تھی جو اس کے لہجے میں بھی نمایاں طور پر ظاہر ہو رہی تھی۔ وہ ایک طرف چل کر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئ اور فضا میں کہیں دیکھتے ہوۓ بولی۔ 'میں آپ کو بہت کچھ تو نہیں بتا سکتی لیکن ایک وعدہ کرتی ہوں۔'
کیا؟'
آج رات کو اسٹیشن چھوڑنے سے پہلے آپ کو میرے بارے میں ایک بات پتہ چل جاۓ گی۔ جو میرا خیال ہے کافی ہو گی۔'
اچھا کیا واقعی؟'
جی۔'
مجھے انتظار رہے گا۔' اس نے کہا اور کمرے سے نکل آیا۔ اس کے نکلتے ہی اردگرد کی فضا میں تبدیلی آنا شروع ہو گئ۔ دھیرے دھیرے سنسان پلیٹ فارم آباد ہونے لگا۔ اس کی ٹرین کچھ دیر بعد تھی اس لیے اس نے کمرے سے اپنا سامان لیا، چابی ملازم کے حوالے کی اور خود چاۓ والے کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ چاۓ والے نے اس کے ہاتھ میں سامان دیکھا تو اس سے پوچھا۔
آپ واپس جا رہے ہیں؟'
ہاں۔ میں نے سوچا اب چلنا چاہیے کافی دن ہو گۓ ہیں۔ لیکن جانے سے پہلے میں تم سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں یہ بتاؤ صغیر صاحب کی بیٹی جو فوت ہو گئی ہے کہاں فوت ہوئی تھی گھر پر یا کہیں باہر؟'
اسی ریلوے اسٹیشن میں اسی پلیٹ فارم پر فوت ہوئی تھی۔'
اچھا۔۔۔ تو ان کی جو چھوٹی بیٹی ہے وہ کہاں ہوتی ہے اور کیا کرتی ہے؟'
چھوٹی بیٹی؟' اس نے خیرت سے کہا۔ 'ان کی تو کوئی چھوٹی بیٹی نہیں۔'
کیا مطلب؟'
ہاں ان کی تو ایک ہی جوان بیٹی تھی جو مر چکی ہے۔'
اس نے فوراً صغیر صاحب کے کمرے کی طرف دیکھا۔ وہاں اندھیرا تھا۔ لیکن ساتھ ہی بتی جل اٹھی۔ پھر بجھ گئی۔ بتی بار بار جل اور بجھ رہی تھی۔ روشنی میں اس نے سارہ کو کھڑکی کے پاس کھڑے دیکھا وہ اسی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں ویسی ہی حسین اور پر کشش لگ رہی تھیں اور اس کے چہرے پر غم آمیز تبسم پھیلا تھا۔ اسٹیشن چھوڑنے سے پہلے اس کو جواب مل چکا تھا۔ ٹرین کی سیٹی بجی اس نے چونک کر ادھر دیکھا۔ پھر اس نے دوبارہ کھڑکی کی جانب دیکھا وہاں سارہ موجود نہیں تھی۔ اس نے سر ہلا کر چاۓ والے کو آخری بار سلام کیا اور آہستہ سے چلتا ہوا ٹرین کی جانب بڑھنے لگا۔ سوار ہوتے وقت اس نے آخری مرتبہ کمرے کی طرف دیکھا مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔

Post a Comment
Thank you for your comment