کل تک میں آزادی کو ایک اخلاقی قدر کے طور پر دیکھتا تھا اور سمجھتا تھا کہ سب کو اپنی زندگی اپنی مرضی سے اپنے نظریات اور عقائد کے مطابق گزارنے کی آزادی ہونی چاہیے مگر آج میں نے اپنے ان نظریات سے رجوع کر لیا ہے اور اب میں سمجھتا ہوں کہ آزادی ایک بری چیز ہے کیونکہ میں نے سنا ہے اس سے بے راہ روی پھیلتی ہے اور انسان گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس لیے اب میں مانتا ہوں آزادی نہیں بلکہ غلامی اور جبر ہونا چاہیۓ۔ اس کے لیے میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کو کسی بھی قسم کا کوئی بھی فیصلہ کرنے کا بالکل بھی اختیار اور حق نہ دیا جاۓ۔ آپ نے کون سا مذہب اختیار کرنا ہے، کون سا عقیدہ اپنانا ہے، کس سیاسی جماعت کی حمایت کرنی ہے، کون سا سیاسی نظریہ اپنانا ہے، کس طرح کی عبادت کرنی ہے، ان سب کا فیصلہ آپ نہیں بلکہ دوسرے کریں گے۔ دوسرے آپ کو بتائیں گے کہ آپ نے ان میں سے کس کا انتخاب کرنا ہے اور کس کا نہیں کرنا۔ نہ صرف نظریات و عقائد اور افکار بلکہ عملی زندگی میں بھی آپ دوسروں کے مطابق چلنے کے پابند ہوں۔ آپ کی پسند نا پسند کیا ہے، آپ نے کون سی ملازمت اختیار کرنی ہے کون سی نہیں کرنی، کون سا مشغلہ اپنانا ہے، کس ملک میں رہنا ہے کس میں نہیں رہنا، کہاں شادی کرنی ہے کہاں نہیں کرنی، کون سا لباس پہننا ہے کون سا نہیں پہننا، کن لوگوں سے دوستی کرنی ہے کن سے نہیں کرنی، کہاں جانا ہے کہاں نہیں جانا، کون سی کتاب پڑھنی ہے کون سی نہیں پڑھنی، کہاں تعلیم حاصل کرنی ہے کہاں نہیں کرنی، کب سونا ہے کب اٹھنا ہے، کیا کھانا ہے کیا پینا ہے ان سب کے فیصلہ کا اختیار دوسروں کے پاس ہونا چاہیے۔ اگر کوئی فرد اپنی مرضی سے ان میں سے کچھ بھی منتخب کرنے کی کوشش کرے تو دوسروں کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ جبراً اس پر اپنی مرضی اور راۓ مسلط کر سکیں اور اگر کوئی انسان زیادہ ضدی ہو تو اسے کم سے کم ہزار کوڑے لگائیں جائیں تاکہ وہ اپنی اس ضد سے باز آجاۓ۔ یہ کوڑے سرعام لگانے چاہیے اور میڈیا اور سوشل میڈیا پر اسے براہِ راست نشر کرنا چاہیے تاکہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو اور وہ اس قسم کی حرکت کرنے کی جرات نہ کر سکیں۔ جبر و غلامی کی ترویج و ترقی کے لیے میڈیا پر باقاعدہ مہم کا آغاز کیا جاۓ اور تعلیمی اداروں میں اسے نصاب میں شامل کیا جاۓ تاکہ یہ بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا حصہ بن سکے۔ اگر کوئی فرد اس سے ذرا بھی روگردانی کرنے کی کوشش کرے تو اسے بغاوت سمجھا جاۓ اور اس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جاۓ۔ معاشرے میں جتنی برائیاں پنپ رہی ہیں اسی آزادی کی بدولت پنپ رہی ہیں اس لیے اس کے خلاف اور جبر و غلامی کے حق میں قانون سازی کی جاۓ اور ایسا سخت سے سخت اور مضبوط سے مضبوط قانون بنایا جاۓ جس کو اگلی سات نسلیں بھی بدل نہ سکیں۔ غلامی اور جبر کو معاشرے میں مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کی سانسوں کا حساب رکھا جاۓ اور انہیں ایک متیعن تعداد بتا دی جاۓ جس کے تحت وہ سانس لیں۔ اس کے لیے سائنسدانوں کی خدمات حاصل کی جائیں اور انہیں یہ حکم دیا جاۓ کہ وہ کوئی ایسا میٹر یا آلہ ایجاد کریں جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ لوگوں نے چوبیس گھنٹے میں کتنی سانسیں لیں ہیں۔ اگر کسی کی سانسیں متعین تعداد سے تجاوز کریں تو اسے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جاۓ۔ اس کے علاوہ دیگر شعبوں کے علماء اور دانشوروں کو بھی میدان میں لایا جاۓ اور غلامی اور جبر کے حق میں کتابیں اور مقالے وغیرہ لکھواۓ جائیں جس میں آزادی کے خلاف سیر حاصل بحث ہو اور دلائل سے یہ ثابت کیا جاۓ کہ آزادی کس قدر مہلک چیز ہے اور اس نے معاشروں کو کیسے تباہ و برباد کر دیا ہے۔ لوگوں کو بتایا جاۓ کہ جن معاشروں نے آزادی کی روش اختیار کی وہ تنزلی اور زوال کا شکار ہوئیں اور جنہوں نے غلامی اور جبر کا راستہ اپنایا وہ آج دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہی ہیں۔ اس بات پر کچھ متنفر قسم کے گھٹیا مخالفین یقیناً چند ترقی یافتہ آزاد قوموں کے حوالے دے کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے لیکن ایسے ناہنجار اور عاقبت نااندیش لوگوں کو سبق سکھانے کے بہت سے طریقے ہیں۔ ان کی پیٹھوں پر درے لگاۓ جائیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں سنگسار کیا جاۓ۔ علماء کے علاوہ ادیبوں، شاعروں اور آرٹسٹوں کو بھی اس کام پر لگایا جا سکتا ہے جو آزادی کے خلاف نظمیں، کہانیاں اور مضامین وغیرہ لکھیں اور جبر و غلامی پر اپنے آرٹ کے نمونے پیش کریں۔
ایک ایسی جماعت بھی تشکیل کی جا سکتی ہے جو لوگوں کو ساتھ ملاۓ اور ملکوں ملکوں، شہروں شہروں گھوم کر ریلیاں نکالے، اجلاس منعقد کرے، جلوس نکالے اور مارچ کرے جس کا مقصد محض آزادی سے چھٹکارا پانا اور جبر و غلامی کو اپنانا ہو۔ جو لوگوں کو یہ کہے کہ زندگی اپنی مرضی سے نہیں بلکہ دوسروں کی مرضی سے گزاریں۔ اس جماعت کے لیے اچھے سے اچھے نعرے بھی تخلیق کیے جائیں۔ جیسے کہ 'غلام بن کر جیو' یا 'آزادی دو غلامی لو' یا پھر 'آزادی۔۔۔اب نہیں چلے گی، نہیں چلے گی۔'
اس جماعت کا بنیادی منشور ہو 'میری زندگی تمہاری مرضی یا تمہاری زندگی میری مرضی۔' یہ جماعت اگر اقتدار اور طاقت حاصل کر لے تو اس کا سب سے پہلا اقدام یہ ہو کہ جو بھی کام لوگ اپنی مرضی اور منشا سے کرنا چاہیں یہ اس کو روکے اور ان سے وہ کام زبردستی کرواۓ جو وہ نہیں کرنا چاہتے۔ جو لوگ مندر جانا چاہتے ہیں یہ انہیں زبردستی مسجد بھیجے اور جو مسجد جانا چاہتے ہیں یہ انہیں مندر جانے پر مجبور کرے۔ اسی طرح جو چرچ جانے کے متمنی ہیں وہ گردوارے بھیجیں جائیں اور جو گردوارے جاتے ہیں انہیں چرچ کی طرف دھکیلا جاۓ۔ جو گاۓ کا گوشت کھاتے ہیں انہیں سئور کھانے پر مجبور کیا جاۓ اور جو گاۓ کی پوجا کرنا چاہتے ہیں ان سے جبراً گاۓ ذبح کروائی جاۓ۔ بالکل اسی طرح جو لوگ جینز پہننا چاہتے ہیں انہیں زبردستی برقع پہنایا جاۓ اور جو لوگ برقع پہنتے ہیں انہیں جبراً جینز پہنائی جاۓ۔ علاوہ ازیں جو لوگ رات کو جلد سونے کے عادی ہیں انہیں دیر سے سونے پر مجبور کیا جاۓ اور جو رات کو دیر سے سوتے ہیں انہیں زبردستی جلدی سلانے کی کوشش کی جاۓ۔ اسی طرح کوئی صبح جلدی اٹھنے کا خواہ خواں ہے تو اسے جبراً دیر تک سلایا جاۓ اور دیر سے اٹھنے والے کو جلد اٹھا دیا جاۓ۔ اس کا مقصد محض یہ ہے کہ لوگوں میں غلامی اور جبر کا احساس قوی ہو اور ان کے اندر آزادی کی جتنی امنگیں پیدا ہوتی ہیں ان کی حوصلہ شکنی ہو۔ اس کے علاوہ اب تک آزادی سے متعلق جتنا بھی لٹریچر موجود ہے اسے اکھٹا کر کے آگ لگا دی جاۓ اور آئندہ ایسی کتاب کی اشاعت پر پابندی لگائی جاۓ جو لوگوں میں آزادی کے جذبے کو ابھارتی ہو ۔ کسی بھی قسم کا ایسا کوئی مواد دستیاب نہ ہو جو آزادی کے حق میں ہو۔
مزید یہ کہ عوامی مقامات جیسے کہ ریستورانوں اور بازاروں وغیرہ پر بھی کڑی نگرانی ہو اور لوگوں پر ہر وقت نظر رکھی جاۓ۔ اگر کوئی فرد آزادی سے متعلق ذرا سی بھی گفتگو کرتا ہوا سنائی دے تو اسے فوراً گرفتار کر لیا جاۓ۔ گھروں کے اندر نگرانی کے لیے لوگوں کی خواب گاہوں میں مختلف آلات بھی نصب کیے جا سکتے ہیں۔ ان سب کے علاوہ لوگوں کو اس طرح کی تربیت دی جاۓ کہ وہ اپنے تمام دیگر اہم امور پس پشت ڈال کر اک دوسرے کی ذاتی زندگیوں پر مکمل نظر رکھیں اور جہاں کہیں بھی انہیں لگے کہ کوئی فرد اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق کچھ بھی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ فوراً مداخلت کرکے اسے اس کام سے باز رکھیں۔ گھروں کے باہر تختیاں لگوائی جائیں اور سڑکوں پر بڑے بڑے ہورڈنگز اور بینرز لگاۓ جائیں جن پر اس قسم کے جملے درج ہوں۔ 'آزادی نہیں غلامی۔' یا 'میری مرضی نہیں دوسروں کی مرضی۔' اس طرح عنقریب آزادی کا مکمل طور پر خاتمہ ہو جاۓ گا اور کوئی ایسا کام نہ ہو گا جو لوگ اپنی مرضی سے اپنے عقیدے، نظریے، خواہش اور پسند کے مطابق کر سکیں۔ کچھ ہی برسوں میں اس قسم کی بیہودہ، خطرناک اور نقصان دہ چیز صفحہ ہستی سے مٹ جاۓ گی۔

Post a Comment
Thank you for your comment